ملفوظات (جلد 4)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 116 of 438

ملفوظات (جلد 4) — Page 116

کے علوم فلسفہ و طبعی سے متاثر ہوکر مذہب کو ایک بےضرورت اور بےفائدہ شَے سمجھنے لگ گئے ہیں۔یہ آفتیں ہیں جو اسلام پر آرہی ہیں اور میں نہایت درداور افسوس سے سنتا ہوں کہ اس پر بھی کہا جاتا ہے کہ کسی مصلح کی ضرورت نہیں؟ حالانکہ زمانہ خود پکار پکار کر کہہ رہا ہے کہ اس وقت ضرورت ہے کہ کوئی شخص آوے اور وہ اصلاح کرے۔میں نہیں سمجھ سکتا کہ خدا تعالیٰ اس وقت کیوں خاموش رہتا جب کہ اُس نے اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَ اِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ ( الـحجر: ۱۰) خود فرمایا ہے۔اسلام پر ایساخطرناک صدمہ پہنچا ہے کہ ایک ہزار سال قبل تک اس کا نمونہ اور نظیر موجود نہیں ہے۔یہ شیطان کا آخری حملہ ہے اور وہ اس وقت ساری طاقت اور زور کے ساتھ اسلام کو نابود کرنا چاہتا ہے مگر اللہ تعالیٰ نے اپنے وعدہ کو پورا کیا ہے اور مجھے بھیجا ہے تا میں ہمیشہ کے لیے اس کا سر کُچل دوں۔سلسلہ میں داخل ہونے کی ضرورت جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ ہمیں کچھ حاجت نہیں ہے ہم نماز و روزہ کرتے ہیں وہ جاہل ہیں انہیں معلوم نہیں ہے کہ یہ سب اعمال ان کے مُردہ ہیں اُن میں روح اور جان نہیں اور وہ آنہیں سکتی جب تک وہ خدا تعالیٰ کے قائم کردہ سلسلہ کے ساتھ پیوند نہ کریں اور اس سے وہ سیراب کرنے والا پانی حاصل نہ کریں۔تقویٰ اس وقت کہاں ہے؟ رسم وعادت کے طور پر مومن کہلانا کچھ فائدہ نہیں دیتا جب تک کہ خدا کو دیکھانہ جاوے اور خدا کو دیکھنے کے لیے اور کوئی راہ نہیں ہے۔اس سفر میں حضرت حجۃاللہ علیہ الصلوٰۃوالسلام کو کھانسی اور نزلہ کی شکایت تھی۔یہاں تک پہنچ کر پھر کھانسی کی شکایت ہوئی اس پر آپ نے فرمایا کہ میں چاہتا تھا کہ لوگوں کو کچھ سنائوں مگر کھانسی کی وجہ سے روک ہوتی ہے۔غرض اس وقت اسی قدر ضرورتیں داعی ہیں کہ ان کے بیان کرنے کے لیے بہت بڑا وقت چاہیے اور پھر اس قدر نشانات ظاہر ہوئے ہیں کہ ان کی بھی ایک بہت بڑی ضخیم کتاب طیار ہوتی ہے میں نے ایک شعر میں ان دونوں باتوں کو جمع کرکے کہا ہے۔؎ آسماں بارد نشاں الوقت مے گوید زمیں ایں دوشاہد از پئے تصدیقِ ایستادہ اند ۱ ۱ الحکم جلد۷ نمبر ۲۳ مورخہ ۲۴؍ جون ۱۹۰۳ء صفحہ ۱تا ۳