ملفوظات (جلد 4) — Page 110
متأثر اوررِقت ِقلب کے ساتھ آپ کے دستِ مبارک کو بوسہ دیا اس پرحضرت حجۃ اللہ نے مؤثر تقریرفرمائی۔بلند ہمتی فرمایا۔ہمّت نہیں ہار نی چاہیے۔ہمّت اخلاقِ فاضلہ میں سے ہے اور مومن بڑا بلند ہمّت ہوتا ہے ہر وقت خدا تعالیٰ کے دین کی نصرت اور تائید کے لیے طیار رہناچاہیے اور کبھی بزدلی ظاہر نہ کرے بزدلی منافق کا نشان ہے۔مومن دلیر اور شجاع ہوتا ہے مگر شجاعت سے یہ مراد نہیں ہے کہ اس میں موقع شناسی نہ ہو موقع شناسی کے بغیر جو فعل کیا جاتا ہے وہ تہوّر ہوتا ہے مومن میں شتاب کاری نہیں ہوتی بلکہ وہ نہایت ہو شیاری اور تحمل کے ساتھ نصرتِ دین کے لیے طیار رہتا ہے اور بزدل نہیں ہوتا۔انسان سے کبھی ایسا کام ہو جاتا ہے کہ خدائے تعالیٰ کو ناراض کر دیتا ہے اور کبھی ناپسند کر دیتا ہے مثلاً کسی سائل کو اگر دھکادیا تو سختی کا موجب ہو جاتا ہے اور خدا تعالیٰ کو ناراض کرنے والا فعل ہوتا ہے اور اسے توفیق نہیں ملے گی کہ وہ اس کو کچھ دے سکے لیکن اگر نرمی یا اخلاق سے پیش آوے گا اور خواہ اسے پیالہ پانی ہی کا دیدے تو ازالۂ قبض کا موجب ہو جاوے گا۔قبض وبسط انسان پر قبض اور بسط کی حالت آتی ہے۔بسط کی حالت میں ذوق اور شوق بڑ ھ جاتا ہے اور قلب میں ایک انشراح پیدا ہوتا ہے۔خدا تعالیٰ کی طرف توجہ بڑھتی ہے۔نمازوں میں لذّت اور سرور پیدا ہوتا ہے لیکن بعض وقت ایسی حالت بھی پیدا ہو جاتی ہے کہ وہ ذوق اور شوق جاتا رہتا ہے اور دل میں ایک تنگی کی سی حالت ہو جاتی ہے۔جب یہ صورت ہو تو اس کا علاج یہ ہے کہ کثرت کے ساتھ استغفار کرے اور پھر درود شریف بہت پڑھے۔نماز بھی بار بار پڑھیں۔قبض کے دور ہونے کا یہی علاج ہے۔حقیقی علم علم سے مراد منطق یا فلسفہ نہیں ہے بلکہ حقیقی علم وہ ہے جو اللہ تعالیٰ محض اپنے فضل سے عطا کرتا ہے یہ علم اللہ تعالیٰ کی معرفت کا ذریعہ ہوتاہے اور خشیت الٰہی پیدا ہوتی ہے۔جیسا کہ قرآن شریف میں ہی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اِنَّمَا يَخْشَى اللّٰهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمٰٓـؤُا (فاطر:۲۹) اگر علم