ملفوظات (جلد 4)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 109 of 438

ملفوظات (جلد 4) — Page 109

شناخت کرو۱ یہی وجہ ہے کہ میرا نام اس نے خلیفۃ اللہ رکھا ہے اور یہ بھی فرمایا ہے کہ کُنْتُ کَنْـزًا مَّـخْفِیًّا فَاَحْبَبْتُ اَنْ اُعْرَفَ فَـخَلَقْتُ اٰدَمَ اس میں آدم میرا نام رکھاہے۔یہ حقیقت اس الہام کی ہے۔اب اس پر بھی کوئی اعتراض کرتا رہے تو اللہ تعالیٰ خود اس کو دکھاوے گا کہ وہ کہاں تک حق پر ہے۔۲ حضرت اقدس ؑ جہلم میں حضرت حجۃ اللہ علی الارض مسیح موعو د علیہ الصلوٰۃوالسلام جب مقدمہ کرم الدین میں جہلم تشریف لائے تھے اور ضلع جہلم اور اس کے گردو نواح کی مخلوق آپ کی زیارت کے لیے کثیر التعداد جمع ہوئی تھی اور جہلم کی کچہری کے احاطے میں آدم زاد ہی آدم زاد نظر آتا تھا جس کی تصدیق جہلم کے اخبار نے بھی کی تھی اور جہلم کی کل مخلوق اور احکام بھی اس اَمرکو جانتے ہیں۔اس روز ۱۷ ؍ جنوری ۱۹۰۳ء کو احاطہ عدالت میں آپ کرسی پر تشریف فرما تھے اور ارد گرد مریدان باصفا نہایت ادب کے ساتھ حلقہ زن تھے اور ہزاروں انسان کا مجمع موجود تھا ہمارے محترم مخدوم جناب خان محمد عجب خان آف زیدہ بھی آپ کی کرسی کے پاس ایڈیٹر الحکم کے پہلو بہ پہلو بیٹھے ہوئے تھے اس وقت جناب خان محمد عجب خان صاحب آف زیدہ نے جو اس قدرہجوم اور رجوع مخلوق کا دیکھا اور حضرت اقدس کے چہرہ پر نگاہ کی تو خوشی اور اخلاص کے ساتھ ان کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے اور اپنی سعادت اور خوش قسمتی کو یاد کرکے (کہ اِس وقت اُس عظیم الشان انسان کے قدموں میں بیٹھنے کا شرف حاصل ہے جس کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام کہا اورجس کا آنا اپنا آنا فرمایا ہے )عرض کیا کہ حضور! میرا دل چاہتا ہے کہ میں جناب کے دستِ مبارک کو بوسہ دوں۔اس پر حضرت حجۃ اللہ نے نہایت ہی شفقت کے ساتھ اپنا ہاتھ پھیلا دیا اور خان صاحب موصوف نے بہت ہی ۱ اس جگہ ایڈیٹرالحکم نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا مندرجہ ذیل شعر درج کیا ہے جو بہت بر محل ہے۔وَلِلّٰہِ دَرُّکَ ؎ آں خدائے کہ ازو اہل جہاں بےخبر اند بر من او جلوہ نمود است گر اہلی بپذیر (مرتّب) ۲ الحکم جلد ۷نمبر ۳۷ مورخہ ۱۰ ؍کتوبر ۱۹۰۳ء صفحہ ۱،۲