ملفوظات (جلد 4)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 107 of 438

ملفوظات (جلد 4) — Page 107

نے وعدہ فرمایا ہے اُدْعُوْنِيْٓ اَسْتَجِبْ لَكُمْ (المؤمن:۶۱) یعنی تم مجھے پکارو میں تمہیں جواب دوں گا اور تمہاری دعا قبول کروں گا۔حقیقت میں دعا کرنا بڑا ہی مشکل ہے۔جب تک انسان پورے صدق ووفا کے ساتھ اور صبر اور استقلال سے دعا میں لگا نہ رہے تو کچھ فائدہ نہیں ہوتا۔بہت سے لوگ اس قسم کے ہوتے ہیں جو دعا کرتے ہیں مگر بڑی بے دِلی اور عجلت سے چاہتے ہیں کہ ایک ہی دن میں اُن کی دعامثمر بہ ثمرات ہو جاوے حالانکہ یہ اَمر سنّت اللہ کے خلاف ہے اس نے ہر کام کے لئے اوقات مقرر فر مائے ہیں اور جس قدر کام دنیا میں ہو رہے ہیں وہ تدریجی ہیں۔اگرچہ وہ قادر ہے کہ ایک طُرفۃ العین میں جو چاہے سو کر دے اور ایک کُنْ سے سب کچھ ہو جاتا ہے۔مگر دنیا میں اُس نے اپنا یہی قانون رکھا ہے۔اس لیے دعا کرتے وقت آدمی کو اس کے نتیجہ کے ظاہر ہونے کے لیے گھبرانا نہیں چاہیے۔اپنی زبان میں دعا کرنے کی حکمت یہ بھی یاد رکھو دعا اپنی زبان میں بھی کرسکتے ہو بلکہ چاہیے کہ مسنون اَدعیہ کے بعد اپنی زبان میں آدمی دعا کرے کیونکہ اس زبان میں وہ پُورے طور پر اپنے خیالات اور حالات کا اظہار کرسکتا ہے اِس زبان پر وہ قادر ہوتاہے۔دعا نماز کا مغز اور رُوح ہے اور رسمی نماز جب تک اس میں رُوح نہ ہو کچھ نہیں اور رُوح کے پیدا کرنے کے لیے ضروری ہے کہ گریہ و بکا اور خشوع و خضوع ہو اور یہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب انسان اللہ تعالیٰ کے حضور اپنی حالت کو بخوبی بیان کرے اور ایک اضطراب اور قلق اس کے دل میں ہو اور یہ بات اس وقت تک حاصل نہیں ہوتی جب تک اپنی زبان میں انسان اپنے مطالب کو پیش نہ کرے۔غرض دعا کے ساتھ صدق اور وفا کو طلب کرے اور پھر اللہ تعالیٰ کی محبت میں وفاداری کے ساتھ فنا ہو کر کامل نیستی کی صورت اختیار کرے اس نیستی سے ایک ہستی پیدا ہوتی ہے جس میں وہ اِس بات کا حقدار ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے کہے کہ اَنْتَ مِنِّیْ۔اصل حقیقت اَنْتَ مِنِّیْکی تو یہ ہے اور عام طور پر ظاہر ہی ہے کہ ہر ایک چیز اللہ تعالیٰ کے فضل اور کرم سے ہے۔اب اس کے بعد ایک اور حصہ اس الہام کا ہے جو وَاَنَا مِنْکَ ہے پس اس کی حقیقت سمجھنے کے واسطے