ملفوظات (جلد 4) — Page 106
میں مبتلا ہو رہے ہیں۔یہ دِق دور نہیں ہوسکتی اور اس کا کوئی علاج نہیں ہوسکتا جب تک انسان کے دل میں خدا کی ایک نالی نہ ہو جو اللہ تعالیٰ کے فیض اور اثر کو اس تک پہنچاتی ہے اور یہ نا لی اس وقت پیدا ہوتی ہے جب انسان ایک منکسرالنفس ہو جاوے اوراپنی ہستی کو بالکل فانی سمجھ لے جس کو فنا نظری کہتے ہیں۔فناکی حقیقت فناکی دو قسمیں ہیں۔ایک فنا حقیقی ہوتی ہے جیسے وجودی مانتے ہیں کہ سب خدا ہی ہیں یہ تو بالکل باطل اور غلط ہے اور یہ شرک ہے لیکن دوسری قسم فنا کی فنا نظری ہے اور وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ سے ایسا شدید اور گہراتعلق ہوکہ اس کے بغیر ہم کچھ چیز ہی نہیں ہیں۔اللہ تعالیٰ کی ہستی ہی ہستی ہو باقی سب ہیچ اور فانی ہو۔یہ فناءِ اتمّ کا درجہ توحید کے اعلیٰ مرتبہ پر حاصل ہوتا ہے اور توحید کامل ہی اس درجہ پر ہوتی ہے۔جو انسان اس درجہ پر پہنچتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی محبت میں کچھ ایسا کھو یاجاتا ہے کہ اس کا اپنا وجود بالکل نیست و نابود ہو جاتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کے عشق اور محبت میں ایک نئی زندگی حاصل کرتا ہے جیسے ایک لوہے کا ٹکڑا آگ میں ڈالا جاوے اور وہ اس قدر گرم کیا جاوے کہ سُرخ آگ کے انگارے کی طرح ہو جاوے۔۱ اُس وقت وہ لوہا آگ ہی کی ہم شکل ہوجاتا ہے۔اسی طرح پر جب ایک راست باز بندہ اللہ تعالیٰ کی محبت اور وفاداری کے اعلیٰ درجہ پر پہنچ کر فنا فی اللہ ہوجاتا ہے اور کمال درجہ کی نیستی ظہور پاتی ہے اس وقت وہ ایک نمونہ خدا کا ہوتا ہے اور حقیقی طور پر وہ اس وقت کہلاتا ہے۔اَنْتَ مِنِّیْ یہ خدا تعالیٰ کا فضل ہے جو دعا سے ملتا ہے۔یاد رکھو دعا جیسی کوئی چیز نہیں ہے اِس لیے مومن کاکام ہے کہ ہمیشہ دعا میں لگا رہے اور اس استقلال اور صبر کے ساتھ دعا کرے کہ اس کو کمال کے درجہ پر پہنچاوے۔اپنی طرف سے کوئی کمی اور دقیقہ فروگذاشت نہ کرے اور اس بات کی بھی پروا نہ کرے کہ اس کا نتیجہ کیا ہوگا بلکہ ؎ گر نباشد بدوست راہ بُردن شرطِ عشق است درطلب مُردن جب انسان اس حد تک دعا کو پہنچاتا ہے تو پھر اللہ تعالیٰ اس دعا کا جواب دیتا ہے جیسا کہ اُس نے ۱ الحکم جلد ۷ نمبر ۳۶ مورخہ ۳۰؍ ستمبر ۱۹۰۳ء صفحہ ۲