ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 88 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 88

اشتہار لکھ رہے ہیں۔آج پہلا دن ہے کہ حضرت حجۃ اللہ سیر کے لئے باہر تشریف لے گئے اور اب انشاء اللہ حسبِ معمول ہر روز جایا کریں گے۔سیر سے واپس آکر شیخ عبد الرحمٰن ملازم خان صاحب نواب محمد علی خان صاحب رئیس اعظم مالیر کوٹلہ نے جو اپنی غلط فہمی اور کوتہ اندیشی کی وجہ سے ان کی ملازمت سے مستعفی ہوئے تھے رخصت چاہی۔حضرت حجۃ اللہ نے ان کو مخاطب کر کے فرمایا۔ملازم کے لئے ملازمت سے پہلے ایسی جگہ دیکھ لینی چاہیے جہاں آقا نیک اور متقی ہو کیونکہ بندگی بیچارگی ملازم ناصح کا درجہ نہیں پاسکتا اس لیے بسا اوقات ایسے لوگوں کی ملازمت ہوتی ہے جہاں دین برباد ہوجاتا ہے۔پس نواب صاحب کی ملازمت کو بہت ترجیح دینی چاہیے نواب صاحب بڑے صالح اور بامروّت ہیں اور پھر قادیان جیسی جگہ کو چھوڑنا نہیں چاہیے یہاں امن سے بیٹھے ہو دنیا میں ایک آگ لگی ہوئی ہے اور ابھی معلوم نہیں کیا ہوگا ملکُ الموت قریب آرہا ہے لیکن یہاں تم سنتے ہو کہ خدا اپنا فضل کر رہا ہے جب انسان دینی فوائد کو چھوڑ کر دنیوی فوائد کے پیچھے جاتا ہے تو دنیوی فوائد بھی جاتے رہتے ہیں بس بُری مجلسوں سے توبہ کرو اور جہاں تکذیب ہوتی ہو وہاں سے اٹھ جاؤ ورنہ تم بھی ان کے مثل سمجھے جاؤ گے میری رائے میں بہتری یہی ہے کہ تم اپنے اس ارادہ پر نظر ثانی کر لو۔۱ ۱۴؍جون ۱۹۰۲ ء مُردوں کا جی اُٹھنا ہم خدا تعالیٰ کے اسی قانونِ قدرت کو مانتے ہیں جو قرآن شریف میں بیان ہوا ہے۔جو مُردہ ایسے ہیں کہ قبر میں رکھے جاتے ہیں اور ان کے پاس ملائکہ آتے ہیں۔اُن کی نسبت قرآن شریف کا یہی فتویٰ ہے فَيُمْسِكُ الَّتِيْ قَضٰى عَلَيْهَا الْمَوْتَ (الزُّمُر : ۴۳) مگر برنگ دیگر غیر حقیقی موت میں اِحیاء بھی ہوتا ہے چنانچہ اس قسم کے واقعات خود ہمارے ساتھ بھی پیش آئے ہیں چنانچہ مبارک کے متعلق اس قسم کی مو تیں فَيُمْسِكُ الَّتِيْ قَضٰى عَلَيْهَا الْمَوْتَ