ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 489 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 489

کر حیران ہوئی کہ اس نے اندر بیٹھے کیسے دیکھ لیا میں نے اس پر خدا کا شکر کیا کہ یہ باوجود میلے کے سر پر موجود ہونے کے نہیں دیکھ سکتی حالانکہ مجھے اس نے اس قدر دور دراز فاصلہ سے دکھلا دیا۔نووارد صاحب نے عرض کی کہ پھر یہ بات اور اس رؤیتِ روحانی کا کیسے پتہ لگے اور سمجھ میں آوے۔حضرت اقدس نے فرمایا کہ بہت دیر صحبت میں رہے تو سمجھ میں آسکتا ہے اور اس کی نظیر یہ پیشگوئیاں بھی ہیں جوہم کرتے ہیں کیونکہ جو علوم پیش از وقت خدا بتلاتا ہے وہ بھی تو ایک قسم کی دیوار کے پیچھے ہیں جو کہ درمیان میں حائل ہوتی ہے اور ایک عرصے کے بعد اس نے گرنا ہوتا ہے مگر خدا تعالیٰ قبل از وقت دکھلادیتا ہے اورا سی عالم میں یہ سب عجائبات ہیں۔کل یا پرسوں ایک نیچری کا خط آیا کہ میرے نزدیک تو انسان کے واسطے خدا شناسی ممکن ہی نہیں ہے تو بات یہی ہے کہ جب روحانی حصہ نہ دیا جاوے تب تک کیا پتہ لگتا ہے۔انسان کا خاصہ علم ہی ہے اگر علم نہ ہو تو صرف جسد ہی ہوا۔رفع حجاب کے دو طریق دو آدمی سعید ہوتے ہیں ایک تو وہ جن کا اﷲ تعالیٰ بالذّات رفع حجاب کرتا ہے اور اپنی خدائی طاقتوں سے اپنی ہستی ان پر کھول دیتا ہے۔دوسرے وہ جو ایسے آدمیوں کی صحبت میں رہ کر ان سے مستفید ہوتے ہیں۔جیسے صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین کی جماعت کہ ان کے تمام حجاب رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی برکت سے رفع ہوئے اور عظیم الشَّان نشانوں سے خدا نے ان پر اپنی ہستی کو کھول دیا اور کامل معرفت ان کو ملی مگر بیہودہ فلسفیوں سے ہرگز ممکن نہیں کہ یہ ایمانی حالت ان کو نصیب ہو۔ایمان تو ایک چولہ بدل کر دو سرا اسے پہنا دیتا ہے اور اسے ایک فوق العادت طاقت دی جاتی ہے کوئی فلاسفر نہیں گذرا کہ جسے یہ طاقت ملی ہو۔افلاطون وغیرہ بھی اس سے بے نصیب رہے پاکیزگی کی وراثت بجز انبیاء کے نہیں آئی اور فلسفیوں وغیرہ میں بجز تکبّر کے اور کچھ نہیں ہوتا۔دنیا کی مصنوعات میں زیادہ تر مشغول ہونے سے دین کے پہلومیں ضرور کمزوری ہوا کرتی ہے سچی بات یہی ہے کہ انسان لمبی صحبت میں رہے چند ایک نمونہ جب اسے مل جاتے ہیں تو پھر ٹھیک