ملفوظات (جلد 3) — Page 488
بھی دخل نہ ہو مگر پھر بھی مَرتے وقت کوئی ایسی شَے نظر نہ آوے گی کہ ہم کہیں کہ اسی کا نام روح ہے اور کہاں سے جان نکلی تھی پھر اسی طرح انڈے میں کیا بتلا سکتے ہیں کہ کہاں سے روح داخل ہوتی ہے بعض دفعہ دیکھا جاتا ہے کہ انڈے میں بچہ مَرا ہوا ہوتا ہے گویا کہ روح داخل ہو کر پھر نکل بھی گئی اور نظر بھی کسی کو نہ آئی تو یہ ایک بھید ہے جس کی حقیقت کیا سمجھ میں آسکتی ہے ہرگز سمجھ نہیں آتی۔دلائل کی دو اقسام دلائل دو قسم کے ہوتے ہیں۔ایک اِنّی اور ایک لِمّی۔کھوج نکال کر جاننا اس کا نام لِمّی ہے اور اِنّی یہ ہے کہ آثار سے پتہ لے لینا جیسے قارورہ کو دیکھ کر طبیب گرمی تپ وغیرہ کا حال معلوم کر لیتا ہے۔یہ اِنّی ہے اور تپ وغیرہ دیکھ کر قارورہ کی نسبت سمجھ لینا یہ لِمّی ہے۔تو روح میں لِمّیت ہم دریافت نہیں کرسکتے مگر آثار بتلاتے ہیں کہ ایک شَے ہے تو اس طرح کے عجائبات کثیر ہیں۔ظاہری اور باطنی رؤیت اسی طرح ایک رؤیت آنکھ میں ہے ہر ایک شَے کو دیکھتی ہے مگر ایک دیوار کے پیچھے ایک شَے ہو تو نہیں دیکھ سکتی۔آنکھ کیوںنہیں دیوار کے پیچھے دیکھ سکتی۔اس کے دلائل کیا بیان ہو سکتے ہیں۔اسی طرح ایک رؤیت روح میں ہے کہ بیٹھے بٹھائے دور تک دیکھ لیتی ہے خواہ تین چار دیواریں درمیان میں حائل ہوں مگر اسے پروا نہیں ہوتی۔وہ اس شَے کویہاں بیٹھے اس طرح دیکھتی ہے جیسے کہ کھلی روشنی میں ایک شَے نظر آتی ہے۔اس پر نووارد صاحب حیران ہوئے کہ یہ کیا بات ہے اور تعجب ظاہر کیا۔حضرت اقدس نے فرمایا۔خود ہم نے کئی دفعہ اس طرح دیکھا ہے کہ تین دیواریں درمیان میں حائل ہیں مگر ہم نے وہ شَے دیکھ لی۔خبر نہیں کہ اس وقت کیا ہوتا ہے دیوار مطلق رہتی ہی نہیں اور انہی آنکھوں سے اس وقت سب کچھ نظر آتا ہے۔اس مقام پر حضرت اقدس نے ایک واقعہ سنایا کہ ایک دفعہ ایک خاکروبہ نے ایک جگہ سے میلا اٹھایا اور اس کا ایک حصہ چھوڑ دیا۔میں جو مکان کے اندر بیٹھا ہوا تھا مجھے نظر آیا کہ اس نے ایک حصہ چھوڑ دیا ہے تو میں نے اس خاکروبہ سے کہا۔وہ سن