ملفوظات (جلد 3) — Page 445
کو پناہ مل سکتی ہے اگر وہ خدا پر بھروسہ کر کے دعائیں کریں تو ان کو بشارتیں بھی ہو جاویں گی۔صحابہؓ پر جیسے سکینت اتری تھی ویسے ان پر اترے گی صحابہؓ کو انجام تو معلوم نہ ہوتا تھا کہ کیا ہوگا مگر دل میں یہ تسلّی ہو جاتی تھی کہ خدا ہمیں ضائع نہ کرے گا۔اور سکینت اسی تسلّی کا نام ہے۔جیسے میں اگر طاعون زدہ ہو جائوں اور گلے تک میری جان آجاوے تو مجھے ہرگز یہ وہم تک نہیں ہوگا کہ میں ضائع ہو جائوں گا اس کی کیا وجہ ہے؟صرف وہی تعلق جو میرا خدا کے ساتھ ہے وہ بہت قوی ہے انسان کے لئے ٹھیک ہونے کا یہ مفت کاموقع ہے راتوں کو جاگو۔دعائیں کرو۔آرام کرو جو کسل اور سُستی کرتاہے وہ اپنے گھر والوں اور اولاد پر ظلم کرتا ہے کیونکہ وہ تو مثل جڑھ کے ہے اور اہل و عیال اس کی شاخیں ہیں۔تھوڑے ابتلا کا ہونا ضروری ہے۔جیسے لکھا ہے اَحَسِبَ النَّاسُ اَنْ يُّتْرَكُوْۤا اَنْ يَّقُوْلُوْۤا اٰمَنَّا وَ هُمْ لَا يُفْتَنُوْنَ(العنکبوت : ۳) ابتلائوں کی غرض پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک طرف تو مکہ میں فتح کی خبریں دی جاتی تھیں اور ایک طرف ان کو جان کی بھی خیر نظر نہ آتی تھی اگر نبوت کا دل نہ ہوتا تو خدا جانے کیا ہوتا۔یہ اسی دل کا حوصلہ تھا۔بعض ابتلا صرف تبدیلی کے واسطے ہوتے ہیں۔عملی نمونے ایسے اعلی درجے کے ہوں کہ ان سے تبدیلیاں ہوں اور ایسی تبدیلی ہو کہ خود انسان محسوس کرے کہ اب میں وہ نہیں ہوں جو کہ میں پہلے تھا بلکہ اب میں ایک اور انسان ہوں۔اس وقت خدا کو راضی کرو حتیٰ کہ تم کو بشارتیں ہوں۔کل لکھتے ہوئے ایک پرانا الہام نظر پڑا اَیَّامُ غَضَبِ ﷲِ غَضِبْتُ غَضْبًا شَدِیْدًا نُنْجِیْ اَھْلَ السَّعَادَۃِ یہاں اہل السَّعادۃ سے مُراد وہ شخص ہے جو عملی طور پر صدق دکھلاتا ہے خالی زبان تک ایمان کا ہونا کوئی فائدہ نہیں دیتا جیسے صحابہؓ نے صدق دکھلایا ہتھیلی پر جانیں دے دیں اور بال بچوں تک کو قربان کیا۔مگر ہم آج ایک شخص کو اگر کہیں کہ سو کوس چلا جا تو وہ عذر کرتا ہے حتیٰ کہ آبرو و عزت کامعاملہ پیش کرتا ہے اور کاروبار کا ذکر کرتا ہے کہ کسی طرح جانے سے رہ جاوے مگر انہوں (صحابہؓ) نے جان، مال، آبرو، عزّت سب کچھ خاک میں ملا دیا۔بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ ہم پر فلاں فلاں آفت آئی حالانکہ ہم نے بیعت کی تھی مگر ہم نے بار بار جماعت کو کہا ہے کہ نری