ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 36 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 36

کی طرف جو میری توجہ ہوئی تو مجھے یہ سمجھایا گیا ہے کہ ذوالقرنین کے پیرایہ میں مسیح موعود ہی کا ذکر ہے اور اﷲ تعالیٰ نے اس کا نام ذوالقرنین اس لیے رکھا ہے کہ قرن چونکہ صدی کو کہتے ہیں اور مسیح موعود دو قرنوں کو پائے گا اس لیے ذوالقرنین کہلائے گا۔چونکہ میں نے تیرھویں اور چودھویں صدی دونوں پائی ہیں اور اسی طرح پر دوسری صدیاں ہندوئوں اور عیسائیوں کی بھی پائی ہیں۔اس لحاظ سے تو ذوالقرنین ہے۔اور پھر اسی قصہ میں اﷲ تعالیٰ نے بتایا ہے کہ ذوالقرنین نے تین قومیں پائیں۔اوّل وہ جو غروبِ آفتاب کے پاس ہے اور کیچڑ میں ہے۔اس سے مُراد عیسائی قوم ہے جس کا آفتاب ڈوب گیا ہے۔یعنی شریعتِ حقہ اُن کے پاس نہیں رہی، روحانیت مَر گئی اور ایمان کی گرمی جاتی رہی ہے۔یہ ایک کیچڑ میں پھنسے ہوئے ہیں۔دوسری قوم وہ ہے جو آفتاب کے پاس ہے اور جھلسنے والی دھوپ ہے۔یہ مسلمانوں کی موجودہ حالت ہے۔آفتاب یعنی شریعتِ حقہ اُن کے پاس موجود ہے مگر یہ لوگ اس سے فائدہ نہیں اُٹھاتے کیونکہ فائدہ تو حکمتِ عملی سے اُٹھایا جاتا ہے۔جیسے مثلاً روٹی پکانا۔وہ گو آگ سے پکائی جاتی ہے لیکن جب تک اس کے مناسب حال انتظام اور تدبیر نہ کی جاوے وہ روٹی تیار نہیں ہوسکتی۔اسی طرح پر شریعتِ حقہ سے کام لینا بھی ایک حکمتِ عملی کو چاہتا ہے۔پس مسلمانوں نے اس وقت باوجودیکہ اُن کے پاس آفتاب اور اس کی روشنی موجود تھی اور ہے لیکن کام نہیں لیا اور مفید صورت میں اس کو استعمال نہیں کیا اور خدا کے جلال اور عظمت سے حصہ نہیں لیا۔اور تیسری وہ قوم ہے جس نے اس سے فریاد کی کہ ہم کو یاجوج ماجوج سے بچا۔یہ ہماری قوم ہے جو مسیح موعود کے پاس آئی اور اس نے اس سے استفادہ کرنا چاہا ہے۔غرض آج اِن قصّوں کا علمی رنگ ہے۔ہمارا ایمان ہے کہ یہ قصّہ پہلے بھی کسی رنگ میں گذرا ہے لیکن یہ سچی بات ہے کہ اس قصّہ میں واقعہ آئندہ کا بیان بھی بطور پیشگوئی تھا جو آج اس زمانہ میں پورا ہو گیا۔اَلْھُدٰی اور اَلْـحَقُّ سے مُراد هُوَ الَّذِيْۤ اَرْسَلَ رَسُوْلَهٗ بِالْهُدٰى وَ دِيْنِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهٗ عَلَى الدِّيْنِ كُلِّهٖ (الصّف : ۱۰) پر سوچتے سوچتے مجھے معلوم