ملفوظات (جلد 3) — Page 420
یہ مخالفت نہ ہوتی تو اس زور شور سے تحریک اور تبلیغ نہ ہوتی۔۱ وجودی فرقہ کی حالت ایک ذرّہ حرکت اور سکون نہیں کر سکتا جب تک آسمان پر اوّل حرکت نہ ہو۔ذلّت وجودی کی اس سے ہے کہ وہ اس مقام پر لغزش کھا جاتا ہے۔طریق تأدب یہ تھا کہ اس مقام پر ٹھہر جاتے اور جو فرق عبد اور معبود کا ہے اس سے آگے نہ بڑھتے۔مگر وہ ایسے طریق پر ہیں کہ عملی حالت میں رہے جاتے ہیں۔نماز روزہ سے آخر کار فارغ ہو بیٹھتے ہیں۔بھنگ وغیرہ مسکرات استعمال کرنے لگ جاتے ہیں۔دہریت میں اور ان میں انیس بیس کا فرق ہے اور ان کی بیباکی دلالت کرتی ہے کہ اس فرقہ میں خیر نہیں ہے۔عیسائیوں نے ایک کو خدا بنا کر آگ لگائی اور انہوں نے ہر ایک وجود کو خدابنایا۔ہندوؤں پر بھی ان کا بد اثر پہنچا ہے حُرمت کی پروا نہیں ہے۔اس لئے مناہی وغیرہ سب جائز رکھتے ہیں۔صورت پرست ہوتے ہیں نامحرموں پر بدنظری کرتے ہیں اس زمانہ کا بگاڑ سخت ہے۔اصل تقویٰ دنیا سے اُٹھ گیا ہے اصل تقویٰ جس سے انسان دھویا جاتا ہے اور صاف ہوتا ہے اور جس کے لئے انبیاء آتے ہیں وہ دنیا سے اٹھ گیا ہے کوئی ہو گا جو قَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَكّٰىهَا(الشّمس : ۱۰) کامصداق ہو گا۔پاکیزگی اور طہارت عمدہ شَے ہے انسان پاک اور مطہّر ہو تو فرشتے اس سے مصافحہ کرتے ہیں۔لوگوں میں اس کی قدر نہیں ہے ورنہ ان کی لذّات کی ہر ایک شَے حلال ذرائع سے ان کو ملے۔چور چوری کرتا ہے کہ مال ملے لیکن اگر وہ صبر کرے تو خدا اسے اور راہ سے مالدار کردے۔اسی طرح زانی زنا کرتا ہے اگر صبر کرے تو خدا اس کی خواہش کو اور راہ سے پوری کردے جس میں اس کی رضا حاصل ہو۔حدیث میں ہے کہ کوئی چور چوری نہیں کرتا مگر اس حالت میں کہ وہ مومن نہیں ہوتا اور زانی زنا نہیں کرتا مگر اس حالت میں کہ وہ مومن نہیں ہوتا جیسے بکری کے سر پر شیر کھڑا ہو تو وہ گھاس بھی نہیں کھا سکتی تو بکری جتنا ایمان بھی لوگوں کا نہیں ہے اصل جڑ اور مقصود تقویٰ ہے جسے وہ عطا ہو تو سب کچھ پاسکتا ہے بغیر اس کے ممکن نہیں ہے کہ انسان صغائر اور کبائر سے بچ سکے۔انسانی حکومتوں کے احکام گناہوں سے نہیں بچاسکتے۔حکّام