ملفوظات (جلد 3) — Page 408
۲۸؍نومبر ۱۹۰۲ء بروز جمعہ اعجازِ احمدی کے متعلق جعفر زٹلی کے اعتراض کا جواب حضرت اقدس بعد نماز مغرب مسجد کے گوشہ میں ہوبیٹھے جعفر زٹلی نے اپنے اخبار میںاعجاز ِاحمدی کی نسبت لکھا تھا کہ یہ بیان غلط ہے کہ یہ پانچ دن میں تیار ہوئی بلکہ اس کامسودہ ایک عرصہ سے تیار ہو رہا تھا۔صرف مُدّ کے واقعات کا تھوڑا سا مضمون ان ایام میں بنالیا ہے۔اس سفید جھوٹ پر حضرت اقدس تبسّم فرماتے رہے اور تعجب کرتے رہے کہ ان لوگوں کو اس قدر جھوٹ پر جھوٹ کی کس طرح جرأت ہوتی ہے پھر فرمایا کہ ہر ایک بات کے واسطے فیصلہ ہوتا ہے جب تک خدا تعالیٰ ان لوگوں پر اوّل سبقت نہ کرے ہم بھی نہیں کرتے۔صداقت کے دلائل کی بنیاد اس کے بعد حضرت اقدس نے ارادہ ظاہر فرمایا کہ اگر طبیعت درست ہو جائے تو نزول مسیح کو مکمل کر کے ایک رسالہ بزبانِ فارسی تحریر کیا جاوے جس میں دلائل کی بنیاد تین چیزوں پر رکھی جاوے جس کو ہر ایک نبی پیش کرتا رہا ہے اور اوّل نصوص۔دوسرے معجزات۔تیسرے عقل۔عادت ایک زنگ ہے پھر فرمایا۔مشکل یہ ہے کہ عادت بھی ایک زنگ ہے جب دل پر بیٹھ جاوے تو ہزارہا دلائل ہوں ان کا کوئی اثر نہیں ہوتا جیسے ایک ہندو کے دل میں جو گنگا کی عظمت بیٹھی ہے اس سے دلائل پوچھو تو کچھ نہ دے گا صرف عادت کے طور پر اس کی بزرگی ہی مانتا جاوے گا۔اسی طرح نزول مسیح کے بارے میں ان لوگوں کی عادت ہو گئی ہے کہ وہ یہی مانتے ہیں کہ اسی جسم کے ساتھ آسمان سے آوے گا۔یہ مرض بھی دق کی طرح لگا ہے لیکن میں اس پر خوش ہوں کہ میرا خدا ہر ایک شَے پر قادر ہے۔وہ اس مرض کے دفعیہ کے ہزارہا سامان پیدا کر دے گا۔