ملفوظات (جلد 3) — Page 399
حدیث کا انکار کر دیا۔اس سے فتنے کا اندیشہ ہے اس کی اصلاح ضروری ہے ہم کو خدا نے حَاکَم ٹھہرایا ہے اس لئے ہم ایک اشتہار کے ذریعہ اس غلطی کو ظاہر کریں گے اور مضمون پیچھے لکھیں گے۔اوّل خویش بعد درویش جس راہ پر خدا تعالیٰ نے ہم کو چلایا ہے اس پر اگر غور کی جاوے تو ایک لذّت آتی ہے قرآن شریف نے کیا ٹھیک فیصلہ فرمایا ہے فَبِاَيِّ حَدِيْثٍۭ بَعْدَہٗ يُؤْمِنُوْنَ(المرسلات:۵۱) اور دوسری جگہ فرمایا فَبِاَيِّ حَدِيْثٍۭ بَعْدَ اللّٰهِ وَ اٰيٰتِهٖ يُؤْمِنُوْنَ(الـجاثیۃ : ۷) یہ ایک قسم کی پیشگوئی ہے جو ان وہابیوں کے متعلق ہے اور سنّت کی نفی کرنے والوں کے لئے فرمایا اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِيْ۠ يُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ ( اٰل عـمران : ۳۲)۱ ۲۱؍نومبر ۱۹۰۲ء بروز جمعہ لندن میں اوّل ولد الاسلام شیخ رحمت اللہ صاحب مالک ممبئی ہوس لاہور سے مخاطب ہو کر ان سے ان کے حالات اور عرصہ سفر دریافت فرمایا۔اس کے بعد مسٹر پگٹکی نسبت آپ نے شیخ صاحب سے استفسار فرمایا کہ آپ اس سے ملنے گئے تھے۔شیخ صاحب موصوف نے عرض کی کہ میرے روانہ ہونے سے ایک دن پیشتر مجھے خط ملا تھا میں اسی روز اپنے دو دوستوں سمیت اس کے مکان پر گیا۔مگر ہمیں یہی جواب ملتا رہا کہ تم اس وقت اسے مل نہیں سکتے۔شیخ صاحب کو ایک اور فرزند ان کی ولایتی منکوحہ سے جو اﷲ تعالیٰ نے عطا فرمایا ہے جس کا نام عبد اللہ حضرت اقدس کے ارشاد کے مطابق رکھا گیا ہے اس کے حالات دریافت کر کے فرمایا کہ لنڈن میں وہ اوّل ولدالاسلام ہے۔بعد ازاں طاعون اور ٹیکہ کا ذکر ہوتا رہا۔اور ٹیکہ کی نسبت حضرت اقدس نے فرمایا کہ آخر کار آسمانی ٹیکہ ہی رہ جاوے گا۔۲