ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 382 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 382

سی طرح خدا تعالیٰ کی نعمتوں کے حاصل کرنے کا ایک یہی طریق ہے اور یہ آدم سے اسی طرح چلا آتاہے اس میں بحث کی بھی ضرورت نہیں ہے کیونکہ ہر ایک نور اور معرفت کی نظیر اور جگہ مل ہی نہیں سکتی۔حقیقی کرامت انسان کا سب سے پہلا معجزہ یہ ہے کہ خدا تعالیٰ اسے تقویٰ بخشے جو دل پلید ہوتے ہیں ان کا بیان ہی کرنا بے فائدہ ہے اگر کوئی ہمارے پاس آکر ایک کاغذ کا کبوتر بناکر دکھادے توکیااسے ہم کرامت سمجھ لیں گے؟ بات یہی ہے کہ انسان کی زندگی پاک ہو فراست ہواور تقویٰ ہو۔۱ معجزہ کی حقیقت دوسراسوال یہ تھاکہ معجزہ کی قسم کے بعض امور اور لوگ بھی دکھاتے ہیں۔فرمایا۔میں قصوں کو نہیں سنتا یہ جو فرانس یا کسی اور جگہ کے قصے سنائے جاتے ہیں یہ کافی نہیں۔سب سے پہلا معجزہ تو یہ ہے کہ انسان پاک دل ہو بھلا پلید دل کیا معجزہ دکھاسکتاہے جب تک خدا سے ڈرنے والا دل نہ ہو تو کیا ہے؟ ضروری ہے کہ متقی ہو اور اس میں دیانت ہو اگر یہ نہیں تو پھر کیا ہے؟ تماشے دکھانے والے کیا کچھ نہیں کر تے جالندھر میں ایک شخص نے بعض شعبدے دکھائے اوراس نے کہا میں مولویوں سے ان کی بابت کرامت کافتویٰ لے سکتاہوں مگر وہ جانتاتھا کہ ان کی اصلیت کیا ہے؟ وہ اس سلسلہ میں داخل ہوگیا اور اس نے توبہ کی۔جن ملکوں کے قصے بیان کئے جاتے ہیں وہاں اگر معجزات دکھانے والے ہوتے تو یہ فسق و فجور کے دریاوہاں نہ ہوتے۔خدا تعالیٰ کے نشانات دل پر ایک پاک اثر ڈالتے ہیں اور اس کی ہستی کا یقین دلاتے ہیں مگر یہ شعبدے انسان کو گمراہ کرتے ہیں ان کا خداشناسی اور معرفت سے کوئی تعلق نہیں ہے اورنہ یہ کوئی پاک تبدیلی پیدا کر سکتے ہیں اس لئے کہ وہ خدا کی طرف سے نہیں ہوتے۔۱ ۱۵؍ نومبر ۱۹۰۲ء بروز شنبہ (بوقتِ ظہر )