ملفوظات (جلد 3) — Page 381
کہتے ہیں کہ وہ اسی لئے اس سے بے نصیب ہیں کہ کتاب اللہ کی پابندی نہیں کرتے۔اگر ایک شخص کے پاس دوا ہو اور وہ اسے استعمال نہ کرے اور لاپروائی سے نہ کھاوے تو وہ بہر حال اس کے فوائد سے محروم رہے گا یہی حال مسلمانوں کا ہے ان کے پاس قرآن جیسی پاک کتاب موجود ہے مگر وہ اس کے پابند نہیں ہیں مگر جولوگ خدا کے کلام سے اعراض کرتے ہیں وہ تو ہمیشہ انوار و برکات سے محروم رہتے ہیں۔پھر اعراض بھی دو قسم کے ہوتے ہیں ایک صوری اور معنوی یعنی ایک تو یہ ہے کہ (ظاہری اعمال میں اعراض ہو اور) دوسرے یہ کہ اعتقاد میں ہو اور انسان کو انوار اور برکات سے حصہ نہیں مل سکتاجب تک وہ اسی طرح عمل نہ کرے جس طرح خدا فرماتا ہے کہكُوْنُوْا مَعَ الصّٰدِقِيْنَ( التّوبۃ :۱۱۹)۔بات یہی ہے کہ خمیر سے خمیرلگتاہے اور یہی قاعدہ ابتدا سے چلاآتاہے پیغمبر خدا آئے تو آپ کے ساتھ برکات اور انوار تھے جن میں سے صحابہ ؓنے بھی حصہ لیا پھر اسی طرح خمیر کی لاگ کی طرح آہستہ آہستہ ایک لاکھ تک ان کی نوبت آئی اوراس سے بڑھ کر دلیل یہ ہے کہ سوائے اسلام کے اور کسی مذہب میں برکات نہیں ہیں اوراسلام کے سوا اور کسی مذہب میں رکھاہواکیا ہے؟ ہندوؤں کو دیکھو بُت پرست ہیں عیسائیوں نے ایک عاجز انسان کو خدا بنا رکھا ہے۔اگر کوئی کہے کہ ہم بُت پرست نہیں ہیں توجب ہم اس کی تفتیش کریں گے توثابت کر دیں گے۔آریہ لوگ غیر اللہ کی پرستش کرتے ہیں خود کلام خدا کامتبع نہ ہونا اور یہ دعویٰ کرناکہ میں خدا سے مل جاؤں گا یہ بھی گمراہی ہے جیسے حدیث میں ہے کہ اے لوگو تم سب اندھے ہو مگر جسے میں آنکھیں دوں۔جو شخص دعویٰ کرتا ہے کہ میں خداکے کلام کے سوا نجات پالوں گا وہ بھی مشرک ہے نجات کی کنجی تو خدا کے ہاتھ میں ہے وہی جس کے لئے چاہے اس کے دروازے کھول دے۔خدا بار بار یہی فرماتا ہے کہ رسول کی پیر وی کرو اگر ایک باغ ہو اور اس میں لاکھوں پھل ہوں مگر جب تک باغبان اجازت نہ دے توکوئی اس میں سے ایک پھل بھی نہیں کھا سکتا اسی طرح بازاروں میں کئی قسم کی اشیاء ہوتی ہیں اور ہزاروں ہوتی ہیں مگر مالک کی اجازت ہو تو کوئی لیوے۔