ملفوظات (جلد 3) — Page 29
ہے۔مثلاً غَيْرِ الْمَغْضُوْبِ کے مقابل میں سورۃ تَبَّتْ یَدَا ہے۔مجھے بھی فتویٰ کفر سے پہلے یہ الہام ہوا تھا اِذْ یَـمْکُرُ بِکَ الَّذِیْ کَفَّرَ۔اَوْقِدْ لِیْ یَا ھَامَانُ لَعَلِّیْ اَطَّلِعُ عَلٰی اِلٰہِ مُوْسٰی وَ اِنِّیْ لَاَظُنُّہٗ مِنَ الْکَاذِبِیْنَ۔تَبَّتْ یَدَا اَبِیْ لَھَبٍ وَّتَبَّ مَا کَانَ لَہٗ اَنْ یَّدْخُلَ فِیْـھَا اِلَّا خَائِفًا وَمَا اَصَابَکَ فَـمِنَ اللہِ یعنی وہ زمانہ یاد کر کہ جبکہ مُکَفِّرْ تجھ پر تکفیر کا فتویٰ لگائے گا۔اور اپنے کسی حامی کو جس کا لوگوں پر اثر پڑ سکتا ہو کہے گا کہ میرے لیے اس فتنہ کی آگ بھڑکا۔تا میں دیکھ لوں کہ یہ شخص جو موسیٰ کی طرح کلیم اﷲ ہونے کامدّعی ہے۔خدا اس کامعاون ہے یا نہیں اور میں تو اسے جھوٹا خیال کرتا ہوں۔ابی لہب کے دونوں ہاتھ ہلاک ہو گئے اور آپ بھی ہلاک ہو گیا۔اس کو نہیں چاہیے تھا کہ اس میں دخل دیتا مگر ڈر ڈر کر۔اور جو رنج تجھے پہنچے گا وہ خدا کی طرف سے ہے۔غرض سورۃ تَبّت میں غَيْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَيْهِمْ کے فتنہ کی طرف اشارہ ہے اور وَ لَا الضَّآلِّيْنَ کے مقابل قرآن شریف کے آخر میں سورۃ اخلاص ہے۔اور اس کے بعد کی دونوں سورتیں سورۃ الفلق اور سورۃ النّاس ان دونوں کی تفسیر ہیں۔ان دونوں سورتوں میں اس تیرہ وتار زمانہ سے پناہ مانگی گئی ہے جبکہ مسیح موعود پر کفر کا فتویٰ لگا کر مغضوب علیہم کا فتنہ پیدا ہوگا اور عیسائیت کی ضلالت اور ظلمت دنیا پر محیط ہونے لگے گی۔پس جیسے سورہ فاتحہ میں جو ابتدائے قرآن ہے۔ان دونوں بلائوں سے محفوظ رہنے کی دعا سکھائی گئی ہے۔اسی طرح قرآن شریف کے آخر میں بھی ان فتنوں سے محفوظ رہنے کی دعا تعلیم کی۔تاکہ یہ بات ثابت ہو جاوے کہ اوّل بآخر نسبتے دارد۔سورۃ فاتحہ میں جو اِن فتنوں کا ذکر ہے وہ کئی مرتبہ بیان کیا ہے مگر قرآن شریف کے آخر میں جو اِن فتنوں کا ذکر ہے وہ بھی مختصر طور پر سمجھ لو۔اَلضَّآلِّيْنَ کے مقابل آخر کی تین سورتیں ہیں۔اصل تو قُلْ هُوَ اللّٰهُ(الاخلاص : ۲) ہے اور باقی دونو سورتیں اس کی شرح ہیں۔قُلْ هُوَ اللّٰهُ کا ترجمہ یہ ہے کہ نصاریٰ سے کہہ دو کہ اﷲ ایک ہے۔اﷲ بے نیاز ہے۔نہ اُس سے کوئی پیدا ہوا۔اور نہ وہ کسی سے پیدا ہوا۔اور نہ کوئی اس کے برابر ہے۔پھر سورۃ الفلق میں اس فتنہ سے بچنے کے لیے یہ دعا سکھائی قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ یعنی تمام