ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 28 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 28

نے جب دیکھا کہ حالت نازک ہے تو انہوں نے کہا کہ یہ تو امید نہیں اب جانبر ہو میں اپنی نماز کیوں ضائع کروں چنانچہ وہ نماز میں مصروف ہو گئے اور جب نماز سے فارغ ہو کر مجھ سے پوچھا تو اُس وقت چونکہ انتقال ہو چکا تھا میں نے کہا کہ لڑ کا مَر گیا ہے۔انہوں نے پورے صبر اور رضا کے ساتھ اِنَّا لِلّٰهِ وَاِنَّاۤ اِلَيْهِ رٰجِعُوْنَ پڑھا۔خدا جس اَمر میں نا مُراد کرتا ہے اس نامُرادی پر صبر کرنے والوں کو ضائع نہیں کرتا۔اسی صبر کا نتیجہ ہے کہ خدا نے ایک کی بجائے چار لڑکے عطا فرمائے۔الغرض دعا بڑی دولت ہے۔بے صبر ہو کر دعا نہ کرے بلکہ دعائوںمیں لگا رہے۔یہاں تک کہ وہ وقت آجاوے۔قرآن مجید میں فتنہءِ دجّال کا ذکر اوّل بآخر نسبتے دارد قرآنِ شریف کو سورۃ فاتحہ سے شروع کر کے غَيْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَيْهِمْ وَ لَا الضَّآلِّيْنَ (الفاتـحۃ : ۷) پر ختم کیا ہے، لیکن جب ہم مسلمانوں کے معتقدات پر نظر کرتے ہیں تو دجّال کا فتنہ اُن کے ہاں عظیم الشّان فتنہ ہے اور یہ ہم کبھی تسلیم نہیں کر سکتے ہیں کہ خدا تعالیٰ دجّال کا ذکر ہی بھول گیا ہو۔نہیں، بات اصل یہ ہے کہ دجّال کامفہوم سمجھنے میں لوگوں نے دھوکا کھایا ہے۔سورۃ فاتحہ میں جو دو فتنوں سے بچنے کی دعا سکھائی ہے اوّل غَيْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَيْهِمْ، غیر المغضوب سے مُراد باتفاق جمیع اہلِ اسلام یہود ہیں اور یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ایک وقت اُمّت پر آنے والا ہے جبکہ وہ یہود سے تشابہ پیدا کرے گی اور وہ زمانہ مسیح موعود ہی کا ہے جبکہ اس کے انکار اور کفر پر اسی طرح زور دیا جائے گا جیسا کہ حضرت مسیح ابنِ مریم کے کفر پر یہودیوں نے دیا تھا۔غرض اس دعا میں یہ سکھایا گیا کہ یہود کی طرح مسیح موعود کی توہین اور تکفیر سے ہم کو بچا۔اور دوسرا عظیم الشّان فتنہ جس کا ذکر سورۃ فاتحہ میں کیا ہے اور جس پر سورۃ فاتحہ کو ختم کر دیا ہے وہ نصاریٰ کا فتنہ ہے جو وَ لَا الضَّآلِّيْنَمیں بیان فرمایا ہے اب جب قرآن شریف کے انجام پر نظر کی جاتی ہے تو وہ بھی ان دونوں فتنوں کے متعلق کھلی کھلی شہادت دیتا