ملفوظات (جلد 3) — Page 354
ایک نو مسلم کو نصیحت حضرت اقدس میاں عبدالرحمان صاحب سے ان کے والد صاحب کے حالات دریافت فرماتے رہے اور نصیحت کی کہ ان کے حق میں دعا کیا کرو ہر طرح سے حتی الوسع دلجوئی والدین کی کرنی چاہیے اور ان کو پہلے سے ہزار چند زیادہ اخلاق اور اپنا پاکیزہ نمونہ دکھلا کر اسلام کی صداقت کا قائل کرو۔اخلاقی نمونہ ایسا معجزہ ہے کہ جس کی دوسرے معجزے برابری نہیں کر سکتے سچے اسلام کا یہ معیار ہے کہ اس سے انسان اعلیٰ درجہ کے اخلاق پرہو جاتا ہے اور وہ ایک ممیّز شخص ہوتا ہے شاید خدا تمہارے ذریعہ سے ان کے دل میں اسلام کی محبت ڈالے۔اسلام والدین کی خدمت سے نہیں روکتا۔دنیوی امور میں جن سے دین کا حرج نہیں ہوتا ان کی ہر طرح سے پوری فرمانبرداری کرنی چاہیے دل و جان سے ان کی خدمت بجالائو۔زندگی کا بھروسہ نہیں راستہ میں مولوی قطب الدین صاحب سے ملاقات ہوئی۔جو کہ شاہ پور کی طرف ایک مریض کی درخواست سے علاج پر گئے ہوئے تھے اور وہ بیمار ان کی رسیدگی پر فوت ہوگیا تھا۔حضرت اقدس نے فرمایا کہ انسان کا کیا ہے زندگی کا بھروسہ نہیں جہاں تک ہو سکے آنے والے سفر کی تیاری میں مصروف ہونا چاہیے ساری بیماریوں کا علاج ہے مگر یہ ایسی بیماری ہے کہ جس کا کوئی علاج نہیں۔۱ اعلیٰ حضرت کی سواری ساڑھے نو بجے کے قریب بٹالہ پہنچی۔اترتے ہی لوگوں کا ایک ہجوم ہوگیا اور کچہری کے اہلکار اور دوسرے لوگ زیارت کے لئے آموجود ہوئے۔اس باغ میں جو کچہری کے سامنے ہے ڈیرا کیا گیا۔آپ بعض حوائج سے فارغ ہو کر حلقہ خدام میں اجلاس فرما ہوئے اور کاغذ طلب کیا۔فرمایا کہ راہ میں چند شعر کہے ہیں ان کو لکھ لوں چنانچہ مفتی صاحب نے اپنی نوٹ بک پیش کی اور آپ لکھنے لگے۔کھانا ساتھ ہی تھا حکم دیا کہ پہلے کھانا کھا لیا جاوے۔