ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 353 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 353

حضرت اقدسؑ حسب معمول بعد ادائے نماز مغرب شہ نشین پر جلوہ گر ہوئے فرمایا کہ آج میں نے (کام میں) بہت توجہ کی۔سر میں درد تھا ریزش بھی ہے اور گلا بھی پکا ہوا ہے جیسے کسی نے چیرا ہوا ہو اور مریض بھی بہت آئے اگر چہ حکیم نورالدین صاحب کو علاج کے لئے مقرر کیا ہوا ہے مگر بعض اپنے اعتقاد کے خیال سے مجھ سے ہی علاج کراتے ہیں۔دنیا کی بے ثباتی پھر دنیا کی بے ثباتی پر فرمایا کہ چند روزہ زندگی ہے۔اس کا نظارہ کیا ہے۔کون ہے جو اپنے خویش واقارب کی موت کا نظارہ نہیں دیکھتا۔اﷲ تعالیٰ نے دنیا کو بے ثبات کر رکھا ہے جو آیا ہے اس کے اوپر جانا سوار ہے۔ہزار دو ہزار برس کی عمر ہوتی تب بھی کیا ہوتا۔مگر انسان کی عمر تو چیل اور گِد جتنی بھی نہیں ہے اگریہ مضمون دل کے اندر چلا جاوے تو اس کا اثر ہوتا ہے جیسے ابراہیم ادھم اور شاہ شجاع وغیرہ ان پر ایسا اثر پڑا کہ اپنے تختوں سے نیچے اتر پڑے۔۱ ۷؍نومبر ۱۹۰۲ء بٹالہ کا سفر بعد ادائے نماز فجر حضرت اقدس علیہ الصلوٰۃ والسلام بٹالہ جانے کے لئے تیار ہوئے ۷؍نومبر کی صبح کا نظارہ دارالامان کے چوک میں قابلِ دید تھا۔دارالامان کی کل جماعت، مدرسے کے طالب علم نہایت اشتیاق اور اخلاص کے ساتھ اپنے سید و مولا امام کی روانگی کے منتظر اور ہمراہ چلنے کے حکم کے لئے بیقرار تھے۔حضرت اقدس ؑ نے یہی فرمایا کہ چونکہ آج ہی واپس آجانا ہے اس لئے کچھ ضرور نہیں کہ سب لوگ ساتھ جاویں۔۲ آپ نے ایک اور طالب علم کو جو پاپیادہ ہمراہ تھا فرمایاکہ تم کو تو یونہی تکلیف ہوئی تھوڑی دیر شاید ٹھہرنا ہو گا سفر کی کوفت میں تم خواہ مخواہ ہمارے شریک ہو گئے۔