ملفوظات (جلد 3) — Page 343
س قابل ہو کہ آبِ زر سے لکھی جاوے مگر متکلّم اسے سمجھ نہیں سکتا تو پھر وہ فصیح نہ کہلاوے گی اس لئے کلام کرنے والے کو یہ تمام پہلو مدِّ نظر رکھنے چاہئیں۔مکذّبوںکے ذریعہ ہی حقائق و معارف کھلتے ہیں کافروں کے لئے درمیانی خوشی ہوتی ہے اور انجام کی خوشی متقیوں کے لئے ہوتی ہے خدا تعالیٰ اگر چاہے تو ایک دَم میںسب کاخاتمہ کرسکتا ہے مگروہ رونق چاہتاہے جب تک مکذّب نہ ہوں توپھرمصدّق کی حقیقت کیامعلوم ہوسکتی ہے مکذّبوں کے ذریعہ سے ہی حقائق معارف کھلتے ہیں اور خدا تعالیٰ کی محبت اور نصرت کاپتہ ملتاہے اگر ایک شخص کے دل میں ماں کی محبت ہے تواس کاکسی کو علم نہ ہوگا مگر جب کوئی اسے ماں کی گالی دیوے توجھٹ اسے غصہ آوے گا اور معلوم ہوجاوے گاکہ ماں کی محبت اس کے دل میںہے۔ایک عِلمی مُعجزہ ان ہمارے مخالفوںکوغلطیاںنکالنے کا کوئی حق نہیں پہنچتاجب تک وہ اپنا منصب عربی دانی کا ثابت نہ کریں تب تک ان کو غلطی نکالنے کاحق نہیں ہے۔اعتراض کرنے کے لئے ضروری ہے کہ اوّل زبان پر پورااحاطہ ہواگر ان لوگوں کوعربی کاعلم ہے تو ہم جو دس سال سے رسالہ لکھ لکھ کر مقابلہ پر بلا رہے ہیں انہوں نے آج تک دس سطریں ہی دکھائی ہوتیں۔ورنہ جہالت سے تکذیب کرنے سے کیابنتاہے یہ خدا کی قدرت ہے کہ یہ لوگ بالمقابل لکھ نہیں سکتے ورنہ اِملا کرناکیامشکل اَمر ہے مگر ہمارے مقابلہ میں خدا نے ان کی زبانوں کو بند کردیا ہے۔فرمایا کہ دل میں بات بٹھانے کے واسطے بھی ایک ڈھب ہوتاہے کیونکہ اب تلوار کی لڑائی تو ہے نہیں۔زبانوں کی ہے اس لئے زبان کی تلوار جب مارے تو اوچھی نہ مارے۔ایسی ضرب مارے کہ دو ٹکرے ہوجاویں میں نے بار ہاارادہ کیا ہے کہ یہ لوگ میرے زانو بہ زانو بیٹھ کر عربی لکھیں مگر دل فتویٰ دیتا ہے کہ یہ لوگ کبھی نہ آویں گے کیونکہ ان کے دلوں پر رُعب پڑ گیا ہے تو اب جب کہ شکار ہمارے نزدیک نہیں آتاتو ہمیں چاہیے کہ دو رسے بذریعہ بندوق کے نشانہ بناویں۔