ملفوظات (جلد 3) — Page 317
افک کی حقیقت معلوم ہوئی اس سے کیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں کوئی فرق آتا ہے؟ ہرگز نہیں وہ شخص ظالم اور ناخدا ترس ہے جو اس قسم کا وہم بھی کرے اور یہ کفر تک پہنچتا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور انبیاء علیہم السلام نے کبھی دعویٰ نہیں کیا کہ وہ عالم الغیب ہیں۔عالم الغیب ہونا خدا کی شان ہے۔یہ لوگ سنت انبیاء علیہم السلام سے اگر واقف اور آگاہ ہوں تو اس قسم کے اعتراض ہرگز نہ کریں۔افسوس ہے ان کو گلستان بھی یاد نہیں جہاں حضرت یعقوب کی حکایت لکھی ہے۔؎ یکے پُرسید زاں گم کردہ فرزند کہ اے روشن گہر پیر خردمند زِ مصرش بوئے پیراہن شمیدی چرا در چاہ کنعانش نہ دیدی بگفت احوال ما برق جہاں است دمے پیدا و دیگر دم نہاں است گہے بر طارم اعلیٰ نشینیم گہے بر پشت پائے خود نہ بینیم اگر درویش بر یک حال ماندے سر دست از دو عالم بر فشاندے یہ سچی بات ہے اور ہمیں اس کا اعتراف ہے کہ ہم خدا تعالیٰ کے دکھائے بغیر نہیں دیکھتے اور اس کے سنائے بغیر نہیں سنتے اور اس کے سمجھائے بغیر نہیں سمجھتے۔اس اعتراف میں ہمارا فخر ہے ہم نے کبھی دعویٰ نہیں کیا کہ ہم عالم الغیب ہیں۔ہم نے انہیں خیالات کے مسلمانوں میں نشوونما پایا تھا ایسا ہی مہدی و مسیح کے متعلق ہمارا علم تھا۔مگر جب خدا تعالیٰ نے اصل راز ہم پر کھولا اور حقیقت بتادی تو ہم نے اس کو چھوڑ دیا اور نہ خود چھوڑا بلکہ دوسروں کو بھی اس کی طرف اسی کے حکم سے دعوت دی اور اس کو چھڑایا۔اور تعجب کی بات یہ ہے کہ جس اَمر کو نادان اعتراض کے رنگ میں پیش کرتا ہے اسی میں ہمارا