ملفوظات (جلد 3) — Page 316
فرمایا۔یہ لغو اور کفر تو ہوتا ہے مگر اس سے تحریک ہو جاتی ہے اور تحریک بچہ کے بازیچہ سے بھی ہو جاتی ہے۔یہی اعتراض میری سچائی کا گواہ ہے ڈاکٹر عبدالستار شاہ صاحب نے منشی رحیم بخش عرضی نویس کا خط پیش کیا جس میں دو سوال لکھے تھے۔پہلا سوال یہ تھا کہ براہین میں مسیح کی آمد ثانی کا اقرار تھا کہ وہی مسیح آئے گا پھر اس کے خلاف دعویٰ کیا گیا یہ تزلزل بیانی قابل اعتبار نہیں ہوتی۔فرمایا۔ہمیں اس سے انکار نہیں کہ ہم نے ایسا لکھا ہے اور ہمیں یہ بھی دعویٰ نہیں ہے کہ ہم عالم الغیب ہیں ایسا دعویٰ کرنا ہمارے نزدیک کفر ہے اصل بات یہ ہے کہ جب تک اﷲ تعالیٰ کی طرف سے ہدایت نہ آوے ہم کسی اَمر کو جو مسلمانوں میں مروّج ہو چھوڑ نہیں سکتے۔براہین احمدیہ کے وقت اس مسئلہ کی طرف اﷲ تعالیٰ نے ہمیں توجہ نہیں دلائی۔پھر جبکہ ایک چرخہ کاتنے والی بڑھیا بھی یہی عقیدہ رکھتی تھی اور جانتی تھی کہ مسیح دوبارہ آئے گا تو ہم اس کو کیسے چھوڑ سکتے تھے جب تک خدا کی طرف سے صریح حکم نہ آجاتا۔اس لئے ہمارا بھی یہی خیال تھا۔مخالفوں کی بے ایمانی ہے کہ ایک خیال کو الہام یا وحی بتا کر پیش کرتے ہیں۔براہین میں یہ بات عامیانہ اعتقاد کے رنگ میں ہے نہ یہ کہ اس کی نسبت وحی کا دعویٰ کیا گیا ہو۔مگر جب خدا تعالیٰ نے ہم پر بذریعہ وحی اس راز کو کھول دیا اور ہم کو سمجھایا اور یہ وحی تواتر تک پہنچ گئی تو ہم نے اس کو شائع کر دیا۔انبیاء علیہم السلام کی بھی یہی حالت ہوتی ہے جب خدا تعالیٰ کسی اَمر پر اطلاع دیتا ہے تو وہ اس سے ہٹ جاتے ہیں یا اختیار کرتے ہیں۔دیکھو! اِفک عائشہ رضی اللہ عنہا میں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کو اوّل کوئی اطلاع نہ ہوئی۔یہاں تک نوبت پہنچی کہ حضرت عائشہ اپنے والد کے گھر چلی گئیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی کہا کہ اگر ارتکاب کیا ہے تو توبہ کر لے۔ان واقعات کو دیکھ کر صاف معلوم ہوتا ہے کہ آپؐکو کس قدر اضطراب تھا مگر یہ راز ایک وقت تک آپ پر نہ کھلا لیکن جب خدا تعالیٰ نے اپنی وحی سے تبریہ کیا اور فرمایا اَلْـخَبِيْثٰتُ لِلْخَبِيْثِيْنَ۠ وَ الْخَبِيْثُوْنَ لِلْخَبِيْثٰتِ وَ الطَّيِّبٰتُ لِلطَّيِّبِيْنَ وَ الطَّيِّبُوْنَ لِلطَّيِّبٰتِ (النّور : ۲۷) تو آپ کو اس