ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 289 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 289

۲۱؍اکتوبر ۱۹۰۲ء بروز سہ شنبہ (بوقتِ سیر) کوئی ۷ بجے کے قریب حضرت اقدسؑ سیر کے لئے تشریف لائے۔کپور تھلہ سے چند ایک احباب آئے ہوئے تھے۔حضرت اقدسؑ نے ان سے ملاقات کی اور طاعون کا حال اس طرف کا دریافت کیا۔اس سے پیشتر حضرت اقدسؑ قادیان کے شمال کی طرف تشریف لے جایا کرتے تھے مگر آج آپ نے حکم صادر کیا کہ اس طرف (یعنی مشرقی طرف)چلئے۔گویا آج اس مشرقی زمین کے بخت بیدار ہوئے جس پر حضرت اقدس علیہ الصلوٰۃ والسلام کے مبارک قدم پڑنے تھے۔عصمتِ انبیاء علیہم السلام آج بھی وہی مضمون زیر بحث رہا جس پر گذشتہ ایام میں بحث تھی کہ عیسائی جو دوسرے نبیوںکو گنہگار ٹھہراتے ہیں مسیح کے گناہوں کو کیوں چھپاتے ہیں فرمایا کہ ان کو (عیسائیوں کو) بحث میں ذلّت اور ندامت کے سوا کچھ بھی حاصل نہیں۔دوسرے پر حملہ کرنے سے پیشتر اوّل اپنے گھر کی صفائی تو کر لیں۔اگر موسٰی کے قتل پر اعتراض ہے تو وہ توریت کے نزول سے پہلے کا واقعہ ہے مگر مسیحؑکو کیا ہوا کہ انجیل نازل ہو رہی ہے اور کنجری سے تیل ملوا رہا ہے پھر موسٰی کا فعل ارادتاً نہ تھا۔نہ اس کو مارنے کا ارادہ تھا قتل کا الزام غلط ہے میں نے خود دیکھا ہے کہ ایک دفعہ ایک شخص نے ایک بیل کو ڈنڈا مارا وہ مَر گیا۔مقدمہ عدالت میں گیا چونکہ ایک اتفاقیہ اَمر تھا آخر عدالت نے اسے چھوڑ دیا۔اور اَشُدّ سے مُراد وہ نبوت لیتے ہیں اس سے مُراد نبوت نہیں ہے بلکہ یہ مُراد ہے کہ جب ہوش میں آیا۔اَشُدّ بھی دو قسم کی ہوتی ہے ایک وحی کی اَشُدّ، دوسری جسمانی اَشُدّ۔موسٰی نے مُکّا مارا۔اتفاقیہ لگ گیا۔مولوی محمد علی صاحب نے کہا کہ الہام کا سلسلہ بعد بپتسمہ لینے کے شروع ہوا ہے اور روح القدس بھی پیچھے ہی اترا۔حضرت اقدسؑ نے فرمایا۔پھر یوں کہو کہ مسیح کے برکات کا سرچشمہ یحییٰ ہی تھا۔سچی پاکیزگی بِلا روح القدس نہیں مل سکتی۔یحییٰ