ملفوظات (جلد 3) — Page 288
مل جاوے لیکن ایسے آدمی اس زمانہ میں ملنے مشکل ہیں جو خدا تعالیٰ کی ہستی پر ایسا یقین رکھتے ہوںجس نے ان کی ساری قوتوں اور جذبات پر اپنا اثر کیا ہو اور ایسی معرفت عطا کی ہو جس سے ان کے گناہ کی زندگی پر موت وارد ہو چکی ہو۔میں سچ کہتا ہوں کہ ایسے دلوں کاملنا بہت مشکل ہے جو ایمان اور اس کے لذّات بخش نتائج کی معرفت سے بھرے ہوئے ہوں۔ضرورتیں تو اس وقت بہت سی ہیں جو اﷲ تعالیٰ اپنی قدرت کا ہاتھ دکھائے اور اپنی چمکار سے دنیا کو روشن کرے مگر سب سے بڑی ضرورت ایسی معرفت اور یقین کا پیدا کرنا ہے اور میں امید کرتا ہوں کہ طاعون اسی کو پورا کر رہی ہے ٹیکہ کا علاج اس وقت تک آخری علاج سمجھا گیا ہے لیکن اگر یہ علاج ٹھیک نہ ہوا تو پھر مشکل ہو گی ابھی تک اس کا پورا تجربہ بھی نہیں ہوا۔جب تک ایک عدد کثیر نہ ہو کیا کہہ سکتے ہیں مثلاً لاہور میں ۵۰ یا ۶۰ ہزار آدمی ٹیکہ لگوائے اور پھر ایک دو جاڑے ان پر امن سے گذر جاویں تو کچھ پتہ ملے لیکن اگر ۶ ماہ کے بعد اس کا اثر زائل ہو جاوے اور ہر ششماہی کے بعد یہ نسخہ گلے پڑا تو پھر تو کچھ نہیں۔احادیث میںجو آیا ہے کہ آخر خدا سے لڑائی کریں گے یہ اس قسم کی جنگ ہو گی جو خدا تعالیٰ کی قضا و قدر کے مقابلہ کے لئے ہر قسم کی تیاری کی جاوے گی۔میرے الہام میں جو اُجَھِّزُ جَیْشِیْ ہے اس سے مُراد طاعون ہی ہے اور ایسا ہی حضرت مسیح نے اپنی آمد کا زمانہ نوح کے زمانہ کی طرح قرار دیا ہے اور پھر خدا تعالیٰ نے میرا نام بھی نوح رکھا ہے اور وَاصْنَعِ الْفُلْکَ کا الہام ہوا اور لَاتُخَاطِبْنِيْ فِي الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا اِنَّهُمْ مُّغْرَقُوْنَ بھی فرمایا۔جس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ عظیم الشان طوفان آنے والا ہے اور پھر اس طوفان میں میری بنائی ہوئی کشتی ہی نجات کا ذریعہ ہوگی۔اب طاعون وہی طوفان ہے اور خدا کا زور آور حملہ اور اس کی چمکار ہے یہی وہ سیف الہلاک ہے جس کا براہین میں ذکر ہوا ہے۔طبیبوں اور ڈاکٹروں کو اقرار کرنا پڑا ہے کہ اس کا کوئی نظام مقرر نہیں ہے کہ گرمی میں کم ہوتی ہے یا سردی میں۔کیونکہ اکثر دیکھا گیا ہے کہ بعض جگہوں میں گرمیوں میں بھی اس کی کثرت میں فرق نہیں آیا۔غرض اس کا علاج بجز استغفار اور دعا اور اپنے اعمال میں پاکیزگی اور طہارت کے کیا ہو سکتا ہے۔۱