ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 19 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 19

مثلاً معمار جس نے عمارت کو بنایا ہے اُس کے مَر جانے سے عمارت کا کوئی حرج نہیں ہے، مگر انسان کو خدا کی ضرورت ہر حال میں لاحق رہتی ہے۔اس لیے ضروری ہواکہ خدا سے طاقت طلب کرتے رہیںاور یہی استغفار ہے۔اصل حقیقت تو استغفار کی یہ ہے۔پھر اس کو وسیع کر کے اُن لوگوں کے لیے کیاگیا کہ جو گناہ کرتے ہیں کہ اُن کے بُرے نتائج سے محفو ظ رکھا جاوے، لیکن اصل یہ ہے کہ انسانی کمزوریوں سے بچایا جاوے۔پس جو شخص انسان ہو کر استغفار کی ضرورت نہیں سمجھتا وہ بے ادب اور دہریّہ ہے۔۱ مخالفانہ تحریروں کا جواب مخالف جو گالیاں دیتے ہیں اور گندے اور ناپاک اشتہار شائع کرتے ہیں۔ہم کو اُن کا جواب گالیوںسے کبھی دینا نہیں چاہیے۔ہم کو سخت زبانی کی ضرورت نہیں کیونکہ سخت زبانی سے برکت جاتی رہتی ہے اس لیے ہم نہیں چاہتے کہ اپنی برکت کو کم کریں۔اُن کو تو مخاطب کرنے کی بھی ضرورت نہیں۔یہ لوگ بجائے خود واجب الرحم ہیں۔ہاں فضول باتوں کو نکال کر اگر کسی معقول اعتراض کا جواب عوام کو دھوکا سے بچانے کے لیے دیا جاوے تو نامناسب نہیں۔اگر ہم ان کے مقابل پر سخت زبانی کا استعمال کریں تو یہ تو اپنے مرتبہ کا بھی تذلّل ہے۔اگر کبھی کوئی سخت لفظ استعمال کیا گیا ہے تو وہ حق کی لازمی مرارت ہے جو دوا کے طور پر ہے جس کی نظیر انجیل اور نبیوں کے کلام میں پائی جاتی ہے۔رِیس اور تقلید کرنا انبیاء کا کام نہیں۔نام تو وہی ہوتا ہے جو آسمان پر رکھا جاتا ہے۔کسی کے ظالم، کافر کہنے سے کیا بنتا ہے۔زمینی ناموںکا آخر خاتمہ ہو جاتا ہے اور آسمانی نام ہی رہ جاتے ہیں۔پس دنیا کے کیڑوں کے ناموں کی کیا پروا؟اُس نام کی قدر کرو جو آسمان پر نیک لکھاجاوے۔مسیح کا دو زرد چادروں میں نزول زرد چادروں سے مُراد اگر یہی ہو جوہمارے مخالف بیان کرتے ہیں توپھر عام ہندو جوگیوں اور مسیح میں مابہ الامتیاز کیا ہوگا۔اصل میں خدا کی چادر اپنے الگ معنے رکھتی ہے اور وہ وہی ہیں جو خدا تعالیٰ نے مجھ