ملفوظات (جلد 3) — Page 271
پھر ساکنانِ قادیان کے ٹیکہ لگوانے پر فرمایا کہ یہ ہمارے لئے مفید ہے کیونکہ فاسق فاجر لوگ بھی ہیں اور ظاہری اسباب میں سے ٹیکہ بھی ہے۔جب یہ لوگ اپنے ظنون (یعنی ٹیکہ) پر یقین رکھتے ہیں تو کیا وجہ کہ ہم اپنے یقین پر یقین نہ رکھیں۔عجیب زمانہ ہے کسی کو خبر نہیں کہ آئندہ کیا ہونے والا ہے۔پھر حضرت نے مفتی محمد صادق صاحب کو مخاطب کر کے فرمایا کہ ان سابقہ نوشتوں میں یہ تو لکھا ہے کہ مسیح موعود کے زمانہ میں طاعون ہوگی مگر یہ بھی لکھا ہے کہ نہیں کہ جس طرح کے الہامات جیسے ’’اِنِّیْ اُحَافِظُ کُلَّ مَنْ فِی الدَّارِ ‘‘ اور دوسرے ہمیں ہوئے ہیں ان کا بھی کوئی ذکر ہے کہ نہیں؟ مفتی صاحب نے کہا کہ حضور دیکھ کر عرض کروں گا۔پھر فرمایا کہ اِنَّہٗ اٰوَی الْقَرْیَۃَ میں قریہ کا لفظ ہے قادیان کا نام نہیں ہے اور قَرْیَۃ، قِیْـر سے نکلا ہے جس کے معنے جمع ہونے اور اکٹھے بیٹھ کر کھانے کے ہیں یعنی وہ لوگ جو آپس میں مواکلت رکھتے ہوں اس میں ہندو اور چوڑھے بھی داخل نہیں ہیں۔کیونکہ وہ تو ہمارے ساتھ مل کر کھاتے ہی نہیں۔قریہ سے مُراد وہ حصہ ہوگا جس میں ہمارا گروہ رہتا ہے۔مسیح موعود کے اپنی جماعت کو طُور پر لے جانے کامطلب پھر ذکر ہوا کہ حدیث میں یہ بھی ہے کہ مسیح اپنی جماعت کو کوہِ طور پر لے جاوے گا۔حضرت اقدس نے فرمایا۔اس کے یہ معنے ہیں کہ تجلّی گاہ حق میں لے جانا۱ یعنی قرب اور ہیبت کے مقام پر لے جاوے گا