ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 267 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 267

آئے اور ابو بکرؓ اپنے گھر کامال متاع فروخت کر کے جس قدر رقم ہو سکی وہ لے آئے۔پیغمبر خداؐ نے حضرت عمرؓ سے سوال کیا کہ تم گھر میں کیا چھوڑ آئے؟انہوں نے جواب دیا کہ نصف۔پھر ابو بکرؓ سے دریافت کیا انہوں نے جواب دیا کہ اﷲ اور اس کا رسول گھر چھوڑ کر آیا ہوں۔رسول اﷲ ؐنے فرمایا کہ جس قدر تمہارے مالوں میں فرق ہے اسی قدر تمہارے اعمال میں فرق ہے۔کیا اطاعت ایک سہل اَمرہے۱ جو شخص پورے طور پر اطاعت نہیں کرتا وہ اس سلسلہ کو بدنام کرتا ہے حکم ایک نہیں ہوتا بلکہ حکم تو بہت ہیں جس طرح بہشت کے کئی دروازہ ہیں کہ کوئی کسی سے داخل ہوتا ہے کوئی کسی سے۔اسی طرح دوزخ کے کئی دروازہ ہیں ایسا نہ ہو کہ تم ایک دروازہ تو دوزخ کا بند کرو اور دوسرا کھلا رکھو۔ہمارے لئے تو دوہرا وقت ہے گورنمنٹ بھی ایک طرح سے مخالف ہے کیونکہ اگر گورنمنٹ کو ہم پر ایمان ہوتا۲ تو وہ ہم سے کہتی کہ دعا کرو۔ادھر اخباروں نے شور مچایا ہے کہ ہم گورنمنٹ کی مخالفت کی لوگوں کو تعلیم دیتے ہیں۔پس خوب یاد رکھو جس طرح دنیا میں ایک عام قانون قدرت خدا کا ہے جیسے کہ تربد اگر ہندو کھائے تو اسے بھی دست آویں گے اور اگر مسلمان کھائے تو اسے بھی دست آویں گے اسی طرح آفتاب مہتاب کی روشنی سے ہر ایک قوم مشترکہ فائدہ اٹھاتی ہے۔اور ایک خاص قانون ہے جو کہ مومنین کے ساتھ برتا جاتا ہے وہ بہت لذیذ اور شیریں ہے اور بہت سے پھلوں سے بھرا ہوا ہے اور ان پھلوں کےاندر