ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 252 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 252

فائدہ نہیں۔توبہ اور خدا تعالیٰ سے خوف اس وقت مفید ہوتا ہے جبکہ خدا کاعذاب نہ آگیا ہو۔خدا سے دُور تَر وہ ہے جو آنکھ کا اندھا اور دل کا سخت ہو اگر طاعون نہ آتی تو بھی ایک دانش مند اور سعید الفطرت کے لیے یہ سبق کافی تھا کہ لوگوںکے باپ دادا اور بزرگ مَر گئے اور مَرتے جاتے ہیں اور یہاںکوئی ہمیشہ رہ نہیں سکتا۔لیکن اب تو خدا تعالیٰ نے اپنے کلام کے ذریعہ مجھے اطلاع دی کہ اَلْاَمْرَاضُ تُشَاعُ وَالنُّفُوْسُ تُضَاعُ مرضیں پھیلیں گی اور جانیں جائیں گی اور ایسا ہی فرمایا غَضِبْتُ غَضْبًا شَدِیْدًا مَیںسخت غضب میں بھر گیا ہوں۔یاد رکھو کہ یہ ساری باتیں ہونے والی ہیں اور ان کے آثار تم دیکھتے ہو۔پس لازم ہے کہ انسان ایسی حالت بنائے رکھے کہ فرشتے بھی اس سے مصافحہ کریں۔ہماری بیعت سے تو یہ رنگ آنا چاہیے کہ خدا کی ہیبت اور جلال دل پر طاری رہے جس سے گناہ دور ہوں۔اگر ان پیشگوئیوں پر کسی کو ایمان نہ ہوتو کم از کم اتنا ہی سمجھ لے کہ اب توڈاکٹروں کی شہادت سے بھی معلوم ہوگیا ہے کہ خطرناک بیماریاں پیدا ہو گئی ہیں۔جبکہ اب ایسا خوف ناک نمونہ پیدا ہوگیا ہے تو وہ شخص کیساہی بد نصیب ہے جو اس وقت بھی غفلت سے زندگی بسر کرتا ہے۔اس بات پر تمام کتابوں کااتفاق ہے اور سب لوگ مانتے ہیںکہ آخری دنوں میں طاعون آئے گی سارے نبی اس کی خبر دیتے آئے ہیںاور یہ جو لکھاہے کہ آخری دنوں میں توبہ کادروازہ بند ہوگا، اس کے یہی معنے ہیں کہ جب موت نے آکر پکڑلیا پھر کیا فائدہ توبہ سے ہوگا۔پکڑاہوا تو درندہ بھی عاجز ہوتا ہے خدا تعالیٰ سے ڈرنا چاہیے اور خدا کاخوف اور خشیت پابندی نماز سے شناخت ہوتی ہے دیکھو! انسان گورنمنٹ کے احکام کی کس قدر پابندی کرتا ہے پھر آسمانی گورنمنٹ کے احکام کی جس کو زمینی گورنمنٹ سے کوئی نسبت ہی نہیں کیوں قدر نہیںکرتا؟ یہ بڑا ہی خطرناک وقت ہے طاعون ایک عذابِ الٰہی ہے اس سے ڈرو اور اچھانمونہ دنیا کو دکھاؤ اگر کوئی شخص سلسلہ میں ہو کر بُرا نمونہ دکھاتاہے تواس سے سلسلہ پر کوئی اعتراض نہیں آتا کیونکہ سمندر میں توہر ایک چیز ہوتی ہے لیکن وہ خود اپنی جان پر ظلم کرتا ہے اور اسے شرمندہ ہونا پڑے گا اس واسطے بہت دعائیں کرنی چاہئیں تاکہ خدا تعالیٰ غفلت سے بیدار کرے۔سُستیوں اور غفلتوں سے گناہ آتے ہیں اور پھر خدا کے خوف کانقشہ آنکھوں سے