ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 243 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 243

ہوتے ہیں اور جن کو فراست دی گئی ہے وہ سمجھ لیتے ہیں۔عربی کی بجائے اپنی زبان میں نما زپڑھنا درست نہیں سائل۔ایک شخص نے رسالہ لکھا تھا کہ ساری نما زاپنی ہی زبان میں پڑھنی چاہیے۔حضرت اقدسؑ۔وہ اور طریق ہوگا جس سے ہم متفق نہیں۔قرآن شریف بابرکت کتاب ہے اور ربّ جلیل کا کلام ہے۔اس کو چھوڑنا نہیں چاہیے۔ہم نے تو ان لوگوں کے لیے دعائوں کے واسطے کہا ہے جو اُمّی ہیں اور پورے طور پر اپنے مقاصد عرض نہیں کرسکتے۔ان کو چاہیے کہ اپنی زبان میں دعا کرلیں۔ان لوگوں کی حالت تو یہاں تک پہنچی ہوئی ہے کہ مجھے معلوم ہے کہ فتح محمد ایک شخص تھا۔اس کی چچی بہت بڈھی ہو گئی تھی۔اس نے کلمہ کے معنے پوچھے تو اس کو کیا معلوم تھا کہ کیا ہیں۔اس نے بتائے تو اس عورت نے پوچھا کہ محمد مرد تھا یا عورت تھی۔جب اس کو بتایا گیا کہ وہ مرد تھاتو وہ حیرت زدہ ہو کر کہنے لگی کہ پھر کیا میں اتنی عمر تک بیگانے مرد ہی کا نام لیتی رہی؟ یہ حالت مسلمانوں کی ہوگئی ہے۔۱ مولانا مولوی سید محمد احسن صاحب فاضل امر وہی نے جب حضرت حجۃاﷲؑ تقریر ختم کر چکے تو مستفسر کو مخاطب کر کے فرمایا کہ صاحب سفر السعادۃ نے تو یہاں تک لکھا ہے کہ نماز کے بعد دعا کی حدیث ثابت نہیں۔اس پر پھر حضرت اقدسؑ نے سلسلہ کلام یوں شروع کیا کہ حدیث پر میرا مذہب میرا مذہب یہ ہے کہ حدیث کی بڑی تعظیم کرنی چاہیےکیونکہ یہ آنحضرتؐسے منسوب ہے۔جب تک قرآن شریف سے متعارض نہ ہو تو مستحسن یہی ہے کہ ا س پر عمل کیا جاوے۔مگر نما زکے بعد دعا کے متعلق حدیث سے التزام ثابت نہیں۔ہمارا تو یہ اصول ہے کہ ضعیف سے ضعیف حدیث پر بھی عمل کیا جاوے جو قرآن شریف کے مخالف نہ ہو۔اس کے بعد دو تین آدمیوں نے بیعت کی درخواست کی اور آپ نے بیعت میں داخل کیا۔