ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 242 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 242

ہوئیں۔لیکن جب دوسرے ممالک میں اسلام پھیلا تو وہ ترقی نہ رہی۔اس کی یہی وجہ تھی کہ اعمال رسم و عادت کے طور پر رہ گئے۔ان کے نیچے جو حقیقت اور مغز تھا وہ نکل گیا۔اب دیکھ لو مثلاً ایک افغان نماز تو پڑھتا ہے لیکن وہ اثر نماز سے بالکل بے خبر ہے۔یاد رکھو رسم اور چیز ہے اور صلوٰۃ اور چیز۔صلوٰۃ ایسی چیز ہے کہ اس سے بڑھ کر اﷲ تعالیٰ کے قرب کا کوئی قریب ذریعہ نہیں۔یہ قرب کی کنجی ہے۔اسی سے کشوف ہوتے ہیں۔اسی سے الہامات اور مکالمات ہوتے ہیں۔یہ دعائوں کے قبول ہونے کا ایک ذریعہ ہے۔لیکن اگر کوئی اس کو اچھی طرح سے سمجھ کر ادا نہیں کرتا تو وہ رسم اور عادت کا پابند ہے اور اس سے پیار کرتا ہے جیسے ہندو گنگا سے پیار کرتے ہیں۔ہم دعائوں سے انکار نہیں کرتے بلکہ ہمارا تو سب سے بڑھ کر دعائوں کی قبولیت پر ایمان ہے جبکہ خدا تعالیٰ نے اُدْعُوْنِيْٓ اَسْتَجِبْ لَكُمْ (المؤمن : ۶۱) فرمایا ہے۔ہاں یہ سچ ہے کہ خدا تعالیٰ نے نماز کے بعد دعا کرنا فرض نہیں ٹھہرایا۔اور رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی التزامی طور پر مسنون نہیں ہے۔آپ سے التزام ثابت نہیں ہے۔اگر التزام ہوتا اور پھر کوئی ترک کرتا تو یہ معصیت ہوتی۔تقاضاءِ وقت پر آپ نے خارج نماز میں بھی دعا کر لی۔اور ہمارا تو یہ ایمان ہے کہ آپ کا سارا ہی وقت دعائوں میں گذرتا تھا۔لیکن نماز خاص خزینہ دعائوں کا ہے جو مومن کو دیا گیا ہے۔اس لیے اس کا فرض ہے کہ جب تک اس کو درست نہ کرے اَور طرف توجہ نہ کرے کیونکہ جب نفل سے فرض جاتا رہے تو فرض کو مقدم کرنا چاہیے۔اگر کوئی شخص ذوق اور حضورِ قلب کے ساتھ نما زپڑھتا ہے تو پھر خارج نماز میں بے شک دعائیں کرے ہم منع نہیں کرتے۔ہم تقدیم نما زکی چاہتے ہیں اور یہی ہماری غرض ہے۔مگر لوگ آج کل نماز کی قدر نہیں کرتے اور یہی وجہ ہے کہ خدا تعالیٰ سے بہت بُعد ہو گیا۔مومن کے لیے نماز معراج ہے اور وہ اس سے ہی اطمینانِ قلب پاتا ہے کیونکہ نماز میں اﷲ تعالیٰ کی حمد اور اپنی عبودیت کا اقرار، استغفار، رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود غرض وہ سب امور جو روحانی ترقی کے لیے ضروری ہیں موجود ہیں۔ہمارے دل میں اس کے متعلق بہت سی باتیں ہیں جن کو الفاظ پورے طور پر ادا نہیں کر سکتے۔بعض سمجھ لیتے ہیں اور بعض رہ جاتے ہیں۔مگر ہمارا کام یہ ہے کہ ہم تھکتے نہیں کہتے جاتے ہیں۔جو سعید