ملفوظات (جلد 3) — Page 233
اوے تو حیران ہو جائیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ان کو اپنی فوج دکھائی اور عباس کو کہا کہ ان کے پاس ٹھیر کر دکھائو اور جب اس نے وہ نظارہ کیا تو اس نے کہا کہ تیرا بھتیجا بڑا بادشاہ ہو گیا ہے مگر اس کو جواب دیا گیا کہ بادشاہی نہیں نبوت ہے۔براہین احمدیہ کے زمانہ پر غور کیا جاوے۔جب وہ چھپ رہی تھی۔اب تو نہیںبنائی گئی۔اس وقت کے الہامات اس میں درج ہیں۔جو انگریزی میں بھی ہیں اور عربی میں بھی۔اذا جاء نصر اللّٰہ والفتح وانتھٰی امر الزّمان اِلینا الیس ھٰذا بالحق۔ایک مخلوق ہماری طرف رجوع کرے گی۔تو کہا جائے گا۔الیس ھٰذا بالحق۔وانتھٰی امر الزمان الینا عربی میں بڑا عجیب فقرہ ہے کہ زمانہ کا رجوع ہماری طرف ہو گا اور آخری فیصلہ ہمارے ہی حق میں ہو گا۔غرض بڑی بڑی پیشگوئیاں ہیں۔جیسے یہ کہ بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض ملوک کو بھی اس طرف توجہ ہو گی اور ان میں بھی اس سلسلہ کی اشاعت ہو گی۔ملوک اور رؤساء کے کان حق کے سننے سے بہرے ہوتے ہیں۔نہ خود ان کو عادت ہوتی ہے اور نہ ان کے پاس والے ایسے ہوتے ہیں۔ان کے مصاحب اور پاس رہنے والے بدوضع لوگ ہوتے ہیں۔اس لئے وہ اپنی سد دنیا کا باعث سمجھتے ہیں۔اگر وہ دین کی طرف توجہ کریں۔مگر خدا تعالیٰ نے مجھے فرمایا کہ بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے۔یہ برکت ڈھونڈنے والے بیعت میں داخل ہوں گے۔اور ان کے بیعت میں داخل ہونے سے گویا سلطنت بھی اس قوم کی ہو گی۔پھر مجھے کشفی رنگ میں وہ بادشاہ دکھائے بھی گئے۔وہ گھوڑوں پر سوار تھے۔اور چھ سات سے کم نہ تھے۔اصل یہ ہے کہ خدا کے کام تدریجی ہوتے ہیں۔جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مکہ معظمہ کی گلیوں میں تکلیف اٹھاتے پھرتے تھے اس وقت کون خیال کر سکتا تھا اس شخص کا مذہب دنیا میں پھیل جائے گا۔علم خدا تعالیٰ کے سوا اور کسی کو نہیں ہوتا۔صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے علم کا دائرہ بھی اشاعت اسلام