ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 232 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 232

ان کو پڑھ لیں گے۔دہلی کے جلسہ سے پہلے نزول المسیح بھی تیار ہو جاوے تو اچھا ہے۔۵۔ایڈیٹر الحکم کو مخاطب کر کے فرمایا کہ میاں نبی بخش صاحب عرف عبدالعزیز صاحب نمبردار بٹالہ کا توبہ نامہ جو اس نے بھیجا ہے۔الحکم میں چھاپ دیا جاوے۔اور ساتھ اپنا ایک رویاء بھی جسے بارہا آپ نے فرمایا ہے۔سنایا کہ میں نے ایک بار اس کے متعلق دیکھا تھا کہ گویا اسی راستہ ہم سیر کو نکلے ہیں تو اس بڑ کے درخت کے نیچے جو میراں بخش حجام کی حویلی کے پاس ہے۔نبی بخش سامنے سے آ کر ملا ہے اور اس نے مصافحہ کیا ہے۔یہ رویاء ان دنوں کی ہے جب وہ مخالفت کے اشتہار چھپواتا پھرتا تھا۔جماعت کی ترقی اور اس کے متعلق براہین احمدیہ میں پیشگوئیاں ۶۔جماعت کی ترقی پر اور مولوی محمد حسین کے ابھی تین سو تیرہ ہی کہتے رہنے پر فرمایا کہ بڑے زور سے ترقی ہو رہی ہے۔کیا وہ نہیں جانتا کہ خدا قادر ہے کہ ایک دم میں تین سو تیرہ سے تین لاکھ تیرہ ہزار کر دے۔یہ ترقی محمد حسین کے لئے تو اعجاز ہے۔اگر وہ سوچے اور سمجھے براہین احمدیہ کو پڑھے۔یہ کتاب میں نے اب تو نہیں بنا لی جس میں لکھا ہوا ہے کہ تیرے ساتھ فوجیں ہوں گی۔باوجود مولویوں کی اس قدر مخالفت کے پھر اس قوم کا ترقی کرنا کیا یہ معجزہ نہیں۔جبکہ وہ اپنے ارادوں میں عاجز آ گئے۔کس قدر جدوجہد ان لوگوں نے ہمارے نابود کرنے کے لئے کی۔گورنمنٹ تک سے چاہا کہ کسی نہ کسی طرح سے ہم کو پھنسائیں۔مگر خدا تعالیٰ نے ایسی زور شور سے ترقی کی جس قدر زور انہوں نے مخالفت میں لگایا۔اب تو بات صاف ہو گئی ہے۔مردم شماری کے کاغذات سے صاف معلوم ہو جاتاہے کہ ہماری جماعت تین سو تیرہ ہے یا ایک لاکھ کے قریب۔طاعون نے ان کو دو طرح گھٹایا ہے۔کچھ مرتے ہیں اور اکثروں کو ادھر ملایا ہے۔اصل یہ ہے کہ جو بیج اچھی طرح بویا جاوے اور وقت پر بارش بھی ہو وہ دیکھتے ہی دیکھتے نشوونما پاتا اور ترقی کرتا ہے۔دلوں کا کھینچنا اور قائم رکھنا یہ خدا کا کام ہے۔ان مخالفوں کو اگر اب ابو سفیان کی طرح نظارہ کرایا