ملفوظات (جلد 3) — Page 215
ان کے ساتھ افراط وتفریط کا معاملہ کرتا ہے۔استغفار ایک شخص نے پوچھا کہ میں کیا وظیفہ پڑھا کروں۔فرمایا۔استغفار بہت پڑھا کرو۔انسان کی دو ہی حالت ہیں۔یا تو وہ گناہ نہ کرے اور یا اللہ تعالیٰ اس گناہ کے بد انجام سے بچا لے۔سواستغفار پڑھنے کے وقت دونوں معنوں کا لحاظ رکھنا چاہیے۔ایک تو یہ کہ اللہ تعالیٰ سے گزشتہ گناہوں کی پردہ پوشی چاہے اور دوسرا یہ کہ خدا سے توفیق چاہے کہ آئندہ گناہوں سے بچالے مگر استغفار صرف زبان سے پورا نہیں ہوتابلکہ دل سے چاہے۔نماز میں اپنی زبان میں بھی دعا مانگو یہ ضروری ہے۔ہر نیکی کی جڑ یہ اتقا ہے فرمایا۔تقویٰ اختیار کرو۔تقویٰ ہر چیز کی جڑ ہے۔تقویٰ کے معنے ہیں ہر ایک باریک در باریک رگِ گناہ سے بچنا۔تقویٰ اس کو کہتے ہیں کہ جس امر میں بدی کا شبہ بھی ہو اس سے بھی کنارہ کرے۔فرمایا۔دل کی مثال ایک بڑی نہر کی سی ہے جس میں سے اور چھوٹی چھوٹی نہریں نکلتی ہیں جن کو سُوا کہتے ہیں یا راجبا ہا کہتے ہیں۔دل کی نہر میں سے بھی چھوٹی چھوٹی نہریں نکلتی ہیں مثلاً زبان وغیرہ۔اگر چھوٹی نہر یعنی سُوے کا پانی خراب اور گندہ اور میلا ہو تو قیاس کیا جاتا ہے کہ بڑی نہر کا پانی خراب ہے۔پس اگر کسی کو دیکھو کہ اس کی زبان یا دست وپا وغیرہ میں سے کوئی عضو ناپا ک ہے تو سمجھو کہ اس کا دل بھی ایسا ہی ہے۔غیرو ں کے پیچھے نماز نہ پڑھنے کی حکمت اپنی جماعت کا غیر کے پیچھے نماز نہ پڑھنے کے متعلق ذکر تھا۔فرمایا۔صبر کرو اور اپنی جماعت کے غیر کے پیچھے نماز مت پڑھو۔بہتری اور نیکی اسی میں ہے اور اسی میں تمہاری نصرت اور فتح عظیم ہے اور یہی اس جماعت کی ترقی کا موجب ہے۔دیکھو! دنیا میں روٹھے ہوئے ہوئے اور ایک دوسرے سے ناراض ہونے والے بھی اپنے دشمن کو چار دن منہ نہیں لگاتے اور تمہاری ناراضگی اور روٹھنا تو خدا کے لئے ہے۔تم اگر ان میں رلے ملے رہے تو خدا تعالیٰ جو