ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 214 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 214

ہے کہ یہ لوگ طاعون کو ہماری شامتِ اعمال کا نتیجہ بتاتے ہیں۔لیکن مبتلا خود ہوتے ہیں حالانکہ اگر ہماری شامتِ اعمال تھی تو چاہیے تھا کہ طاعون کی خبر تم کو دی جاتی۔مگر یہ کیا ہوا کہ خبر بھی ہم کو دی گئی اور موتیں تم میں ہوتی ہیں۔بر خلاف اس کے ہماری حفاظت کا وعدہ کیا جاتا اور اسے ایک نشان ٹھہرایا جاتا ہے۔کچھ تو خدا سے ڈرو۔خدا کے نذیر کے لیے زور آور حملے خدا تعالیٰ کے نزدیک نذیر وہ ہوتا ہے جو خدا اس کے لیے تائیدی نشان جن میں اس کے مخالفوں کے لیے خوف ہو اوپر سے نازل کرتا ہے۔لکھا ہے کہ خدا اُسے قبول کرے گا اور بڑے زور آور حملوں سے اس کی سچائی ظاہر کر دے گا۔خدا تعالیٰ کی پہلی کتابوں سے معلوم ہوتا ہے کہ زور آور حملے طاعون کے ہیں۔جن سے ہر راہ بند کی جاتی ہے اور منہ سے اقرار کرنا پڑتا ہے یَامَسِیْحَ الْـخَلْقِ عَدْوَانَا۔نَدْوَہ ندوہ کے متعلق ذکر تھا۔فرمایا۔اصل یہ ہے کہ متقی کے لیے تو بولنے کی جگہ نہیں ہے۔ہم نے جو کچھ لکھا ہےوہ اس لیے لکھا ہے کہ وَ اللّٰهُ مُخْرِجٌ مَّا كُنْتُمْ تَكْتُمُوْنَ ( البقرۃ : ۷۳ ) یہ لوگ جو امرتسر میں آئے ہیں ان کی بھی جھوٹی تہذیب نہ رہے بلکہ اس کی حقیقت کھل جاوے۔یادرکھو مداہنہ سے حق نہیں پھیلتا بلکہ رہی سہی برکت بھی جاتی رہتی ہے۔اگر کوئی شخص ڈر کر کہ یہ علماء کی جماعت ہے ان کے ساتھ ہو جاوے۔ہم کو اُس کی پروا نہیں۔جن لوگوں کے لیے سعادت مقدر ہے ان کا حرج نہیں۔خدا تعالیٰ ان کا آپ محافظ ہے اور یہ ہمیشہ ہوتا آیا ہے کہ بعض خبیث فطرت مرتد ہو جاتے ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں بھی اور مسیح کے وقت میں بھی مرتد ہوئے۔احمق نہیں جانتے کہ ہماری طرف سے بات ہوتی تو یہ شوکت کب رہتی۔طاعون ہی کے ذریعہ سے دس ہزار کے قریب لوگ اس سلسلہ میں داخل ہو چکے ہیں۔اگر یہ سلسلہ خدا کی طرف سے نہ ہوتا تو وہ خود اس سلسلہ کو ہلاک کر دیتا۔آخری حیلے ان لوگوں کے رشتوں ناطوں اور جنازوں کے متعلق ہوتے ہیں۔مکہ والوں نے بھی کیے تھے۔مگر جیسے وہاں پہلے ہی سے فیصلہ ہو چکا تھا کہ ان سے الگ ہیں ویسے