ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 209 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 209

براہین میں اس کی خبر دی گئی ہے اَتٰی اَمْرُ ﷲِ فَلَا تَسْتَعْـجِلُوْنِ اور پھر نذیر نام رکھا اور یہ کہا کہ زور آور حملوں سے اس کی سچائی ظاہر کر دے گا اور پھر فرمایا کہ یہی زور آور حملے ہیں۔انسان جب کوئی بیمار ہی نہیں ہوتا تو غافل ہوتا ہے لیکن جب زلزلہ کی طرح ہلایا جاتا ہے پھر تبدیلی کرنی چاہتا ہے جیسے فرعون کا حال ہوا۔دوزخ ؎ حدیث آتش دوزخ کہ گفت واعظ شیخ حدیث آتش روزگار ہجران است خدا تعالیٰ سے جب انسان جدائی لے کر جاتا ہے تو اس کے تمثّلات دوزخ ہوتے ہیں۔خدا تعالیٰ کے کلام میں کذب نہیں ہے مَنْ يَّاْتِ رَبَّهٗ مُجْرِمًا (طٰہٰ : ۷۵) سچ فرمایا ہے۔جب انسان عذاب اور درد میں مبتلا ہے اگر چہ وہ زندہ ہے لیکن مُردوں سے بھی بدتر ہے۔وہ زندگی جو مَرنے کے بعد انسان کو ملتی ہے وہ صلاح اور تقویٰ کے بدوں نہیں مل سکتی۔جس کو تپ چڑھی ہوئی ہے اسے کیوں کر زندہ کہہ سکتے ہیں۔سخت تپ میں کچھ معلوم نہیں ہوتا کہ رات ہے یا دن ہے۔شدھی اور شودر مولانا مولوی نورالدین صاحب حکیم الامت نے عرض کیا کہ روڑکی میں بعض مسلمان آریہ ہو گئے ہیں۔میں نے اُن سے پوچھا کہ تمہیں کوئی نفع پہنچا۔اور اب شدھ ہو کر تم کس ورن میں ہوئے۔اُس نے کہا کہ شودر ہوں۔پھر دوسرے آریہ سے پوچھا کہ آپ کون ہیں۔اس نے بھی کہا کہ میں شودر ہوں۔میں نے کہا کہ کیا آپ اپنی لڑکی ان کو دے سکتے ہیں۔خاموش ہی ہوگیا۔پگٹ اور ڈوئی مسٹر پگٹ کے متعلق ایک نوٹ فری تھنکر سے سنا یا گیا کہ لوگوں نے اس پر حملہ کیا۔پولیس نے بچادیا اور پھر مسٹر ڈوئی کا اخبار سنایا گیا۔اس نے ایک فقرہ لکھا ہے کہ مسیح نے دو ہزار سؤروں کو شیطان میں ڈال دیا تو گویا سؤر کے لیے موزوں جگہ شیطان ہے اور پھر سؤر کے لئے بہترین جگہ تمہارا پیٹ ہے۔تو اس سے نتیجہ نکلا کہ شیطان کے لیے بہترین جگہ تمہارا پیٹ ہے۔