ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 208 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 208

۷؍اکتوبر ۱۹۰۲ء (بوقتِ عصر) مولوی کرم الدین کی دھمکی کا جواب مولوی کرم الدین صاحب بھیں نے سائیں مہر علی شاہ گولڑوی کے پردہ دری والے مضمون کو پڑھ کر اور سن کر ایک خط لکھا۔جس میں انہوں نے دھمکی دی تھی کہ اب جو کچھ مجھ سے ہو سکے گا میں کروں گا۔فرمایا۔اُن کو لکھ دو کہ تمہاری دھمکی تم پر ہی پڑے گی۔جو دوسرے مولویوں پر پڑا ہے وہی تم پر پڑے گا۔ہماری باتیں آسمانی ہیں۔ہم منصوبہ نہیں سوچتے۔یہ نامَردی ہے کہ تم نے نام تک نہیں لکھا۔(دربارِ شام) مختلف مسائل پر گفتگو حضرت اقدس علیہ الصلوٰۃوالسلام کی طبیعت بعارضہ زکام ناساز تھی۔بعد ادائے نماز مغرب جب آپ اجلاس فرما ہوئے تو ڈاکٹر خلیفہ رشیدالدین صاحب طبی مشورہ عرض کرتے رہے۔پھر مولانا مولوی محمد علی صاحب نے منشی مظہر علی صاحب کا خط سنایا جو میگزین کو پڑھ کر اس سلسلہ کی طرف متوجہ ہوئے ہیں۔انہوں نے اپنے مزید اطمینان کے لیے چاہا تھا کہ ایک مقدمہ متدابرہ کے انجام کے متعلق حضرت اقدس جواب دیں۔آپ نے سنّتِ انبیاء کے موافق جو اقتراحی معجزات مانگنے والوں کو جواب دینا چاہیے جواب دیا اور فرمایا کہ خدا تعالیٰ نشان نمائی میں اپنی شرائط رکھتا ہے۔اس کے بعد مولانا مولوی سید محمد احسن صاحب فاضل امروہی نے اپنا ایک لطیف مضمون سنایا۔پھر ٹیکہ طاعون پر مختلف باتیں ہوتی رہیں۔اور طاعون کے ذکر آنے پر آپ نے اپنی پیشگوئی کو دہرایا کہ