ملفوظات (جلد 3) — Page 179
چمک بھی نظر آتی تھی۔بعض احباب نے چاہا کہ نیچے چلیں۔حضور نے فرمایا۔دیکھ لو جو اَمر آسمان پر ہوتا ہے اس میں کوئی نہ کوئی حکمت ضرور ہوتی ہے۔جناب میر صاحب نے عرض کی کہ حضور غور کر کے دیکھا جاوے تو پہلے زمانہ کی نسبت خدا کا فضل اب بہت زیادہ ہے۔فرمایا۔وہ زمانہ اس آخری زمانہ کا نمونہ تھا اور بطور اِرہاص تھا۔صوفیوں نے لکھا ہے کہ قرآن کریم عصائے موسیٰ کا قائم مقام تھا جو مذاہب مخالفہ کو کھا جانے والا ہے اور حقیقت بھی یونہی ہے۔قرآنِ شریف کے مقابل پر کوئی کتاب نظر نہیں آتی۔مولوی عبد الکریم صاحب کی ایک رؤیا مولانا مولوی عبد الکریم صاحب نے اپنی ایک رئویا سنائی کہ میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ سیالکوٹ کے بازار میں ایک آریہ بڑے کلے تھلے والا وعظ کرتا ہے۔اور اس بات پر زور دیتا ہے کہ وید کی دعائوں کی طرف توجہ کرو۔مجھے یہ سن کر جوش اور غیرت آئی اور میں نے کہا کہ بیشک وید میں دعائیں تو ہیں مگر اُن کی قبولیت اور مستجابُ الدّعوۃ لوگوں کی علامات کا کوئی نشان بتائو۔وید میں کہاں ہے۔اس پر وہ بہت ہی چھوٹا سا ہو گیا۔یہ خواب مبارک اور آریہ پر فتح کی دلیل ہے۔فرمایا۔حقیقت میں خدا سے بے نصیب جانا یہی بڑا بھاری دوزخ ہے۔کسی نے کیا اچھا کہاہے۔ع حکایتے ست کہ از روز گارہجراں است اصل یہ ہے کہ جب انسان دنیا کو مقدم کر لیتا ہے خواہ جان و مال کے لیے یا دولت و ملوک کے لیے۔پھر اس کو دین کی طرف آنا مشکل ہو جاتا ہے لیکن جن لوگوں نے دین کو طلب کیا ہے وہ اس مقام پر اس وقت تک نہیں پہنچے جب تک انہوں نے اﷲ تعالیٰ کو مقدم نہیں کر لیا اور منقطعین اور متبتّلین میں داخل نہیں ہوئے۔؎ سخن اینست کہ مابے تو نخواہیم حیات بشنو اے پیک سخن گیر وسخن باز رساں