ملفوظات (جلد 3) — Page 178
جنہوں نے کل مذاہب کو آزادی دیدی۔اور ہمارے لیے ملک بھی چن کر مقرر کیا کل مذاہب کی کھچڑی جہاں موجود ہے۔ہم یہاں وہ کام کر سکتے ہیں جو مکہ مدینہ میں ہرگز نہ کر سکتے۔لوگ کہتے ہیں کہ ہم انگریزوں کی خوشامد کرتے ہیں بلکہ ہم هَلْ جَزَآءُ الْاِحْسَانِ اِلَّا الْاِحْسَانُ (الرّحـمٰن : ۶۱) پر عمل کرتے ہیں۔خوشامدوہ کرتے ہیں جو اَلْاَئِـمَّۃُ مِنْ قُرَیْشٍ مانتے اور سلطان روم کے لیے امیر المومنین ہونے کا فتویٰ دیتے اور پھر دل میں کچھ رکھتے اور زبان سے کچھ کہتے ہیں۔ہم جو کچھ کہتے ہیں اور کرتے ہیں وہ خدا تعالیٰ کے حکم کی بجا آوری کے لیے اور وہ محض خوشامد اور نفاق سے۔اس قدر بیان فر ما کر پھر حضرت تشریف لے گئے۔(دربارِ شام) حسب معمول حضرت امام ہمام علیہ الصلوٰۃ والسلام بعد ادائے نماز مغرب شہ نشین پر اجلاس فرما ہوئے۔خدام ایک دوسرے سے پہلے جگہ لینے کے لیے گرے پڑتے تھے۔آخر جب سب اپنی اپنی جگہ جہاں کسی کو ملی بیٹھ گئے تو حضرت حجۃاﷲ نے کشتی نوح کی اشاعت کے متعلق فرمایا کہ امید ہے جمعہ تک اشاعت ہو جائے گی۔اور پھر انگریزی سلطنت کے متعلق قریباً وہی گفتگو فرمائی جو جو صبح کی سیر میں فرمائی تھی۔ہاں اتنا اضافہ اور کیا کہ چونکہ مسیح ابن مریم کے ساتھ ہمیں مشابہت ہے۔اُن کے لیے جو اﷲ تعالیٰ نے فرمایا ہے وَاٰوَيْنٰهُمَاۤ اِلٰى رَبْوَةٍ ذَاتِ قَرَارٍ وَّ مَعِيْنٍ (المؤمنون : ۵۱) یعنی واقعہ صلیب کے بعد ان کو ایک اُونچے ٹیلہ پر جگہ دی جہاں آرام کی جگہ اور پانی کے چشمے تھے۔اصل یہ ہے کہ اس جگہ یعنی واقعاتِ مسیح ابن مریم میں تو صرف ظِل تھا اور یہاں اصل ہے۔ہم کو ایسی جگہ پناہ دی جہاں یہودیوں کا بس نہیں چل سکتا یعنی سلطنتِ انگلشیہ کے ماتحت۔اب یہاں یہودی حملہ نہیں کر سکتے۔ہمارے لیے یہ پناہ کی جگہ ہے اور حقائق و معارف کے چشمے یہاں بہ رہے ہیں۔اتنے میں آسمان پر مغرب کی طرف سے ایک غبار سا اُٹھا۔کبھی کبھی اس آندھی میں بجلی کے کوندنے کی