ملفوظات (جلد 3) — Page 170
نہ تھی۔لیکن اب اس نشان کے لیے ضروری ہے کہ ہم اس کی قدر کریں۔ہر ایک شخص اپنے صدق،ثبات اور قوت کو دیکھ لے۔ہم کسی کو منع نہیں کرتے۔اسباب پرستی،پتھر پرستی سے بڑھ کر ہے۔پتھروں کی پوجا اگر محرقہ ہے تو اسباب پرستی تپ دِق ہے جس نے دنیا کو ہلاک کر دیا ہے۔یاد رکھو جو اسباب میں دل لگاتا ہے وہ شرک میں مبتلا ہو جاتا ہے۔اَلدَّار والوں کی حفاظت کا قوی ذمہ خدا نے لے لیا ہے مگر ایک دار تو وہ ہے جو خس و خاشاک و خاک کا بنا ہوا درودیوار والا گھر ہے اور ایک وہ جو ہمارے منشا کے موافق روحانی طور پر اپنی تبدیلی کرتا ہے۔وہ بھی ہمارے دار میں ہے۔برکت کا نشان میرے پاس ایک شیشی مُشک کی ہے جس میں سے میں کھایا کرتا ہوں۔اﷲ تعالیٰ جب کسی چیز کے سلسلہ کو منقطع کرنا نہیں چاہتا تو جس طرح چاہے اس کو برکت دیدے۔میں نے گھر والوں سے کہا کہ لائو اس شیشی کو میں برکت دیتا ہوں چنانچہ میں نے اُس میں پھونک ماردی۔ڈاک کے وقت فضل الٰہی ایک شیشی لایا۔میں نے سمجھا کہ کوئی دوائی ہے اور رکھ دی۔مگر فجر کو جب اسے کھول کر دیکھا تو وہ مشک نکلا۔میں نے اس کو بلا کر پوچھا کہ کس نے بھیجی ہے۔اس نے کہا کہ وہ کاغذ گم ہو گیا۔اس شیشی پر بھی مرسل و فریسندہ کا نام نہیں۔یہ نمونہ خدا تعالیٰ نے برکت کا دیا ہے۔میں نے گھر میں خود پھونک ماری اور دوسرے دن وہ شیشی آگئی۔یہ خدا کے عجیب کام ہیں جو آجکل ظاہر ہو رہے ہیں۔فَالْـحَمْدُ لِلہِ عَلٰی ذَالِکَ۔۱ ۳۰؍ستمبر ۱۹۰۲ء رومن کیتھولک اور پراٹسٹنٹ رومن کیتھولک اور پراٹسٹنٹ دراصل دونوں ایک ہی ہیں۔آدم زاد کی پرستش کرنے میں کوئی ایک دوسرے سے ممتاز نہیں ہے۔ایک بیٹے کی پرستش کرتا ہے تو دوسرا ماں کو بھی خدا بناتا ہے اور اس معاملہ میں وہ