ملفوظات (جلد 3) — Page 169
انسان کو معزز بناتی ہیں۔حضرت حجۃاﷲ نے فرمایا۔حقیقت میں تقویٰ ہی ایک ایسی چیز ہے کہ جس سے انسان کا اکرام ہوتا ہے۔طاعون کا ٹیکہ اور اسباب پرستی کی ممانعت طاعون کے ٹیکہ کا ذکر تھا۔اس کے متعلق ایک مبسوط اشتہار تقویۃ الایـمان کے نام سے عنقریب شائع ہوتا ہے جو چھپ رہا ہے۔وہ الحکم کی کسی اشاعت میں انشاء اﷲ کامل طور پر چھپے گا۔اسی ذکر کے اثنا میں اور اسی کے متعلق ایک لطیف بات فرمائی کہ دیکھو! ایک زمیندار ہے اس کی زمین بارانی ہے اور ایک دوسرا ہے جس نے رات دن محنت کر کے کنوئیں سے آبپاشی کی ہے اور اپنے کھیتوں کو بھر لیا ہے۔مگر آسمان پر یکایک بادل ہوئے اور بارانی زمین والے تمام کھیت بھر گئے۔اب دونوں میں سے زیادہ شکر گذار کون ہوگا؟ کیا وہ جس نے رات دن ایک محنت کر کے اپنے کھیت بھرے ہیں یا وہ جو آسمان کی طرف دیکھتا رہا ہے؟ صاف ظاہر ہے کہ وہ جو رات کو سویا ہوا تھا اور صبح اُٹھ کر دیکھا تو کھیتوں کو لبالب پایا۔اس طرح پر ٹیکہ کے متعلق ایک تو ہم ہیں کہ خدا تعالیٰ نے حفاظت کا وعدہ کیا ہے۔اور ایک وہ ہیں جو اسی پر بھروسہ کئے ہوئے ہیں۔اسباب سے اﷲ تعالیٰ نے منع تو نہیں فرمایا مگر اس قدر محوفی الاسباب نہ ہونا چاہیے کہ شرک کی حدتک پہنچ جاوے۔اسباب سے جائز فائدہ اعتدال کی حدتک ضرور اُٹھانا چاہیے مگر شرک فی الاسباب نہ ہونے پائے۔اور یہ شرکِ اسباب اسباب سے ہی پیدا ہوتا ہے۔ہزاروں ہزار مخلوق جانتی ہے کہ جب ٹیکا کرانے والوں کو فائدہ ہوگا جیسا کہ ظاہر کیا گیا ہے تو وہ شخص کس قدر خوش ہوگا اور کتنا بڑا نشان ہوگا جو یہ کہے گا کہ اوروں کو ٹیکہ نے فائدہ کیا اور مجھ کو خدا نے۔وَلَنِعْمَ مَاقِیْلَ۔تُرا کشتی آورد و ما را خدا۔جس راہ پر ہم چلتے ہیں یہ مرحلہ دور ہے۔ہم اسباب کو چھوڑتے نہیں لیکن اُن کو پوجتے بھی نہیں۔خدا نے اپنے فضل سے ایک نشان دیا ہے اس کی قدر کرتے ہیں۔اگر وہ ہم پر ظاہر نہ کرتا تو کچھ بات