ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 121 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 121

ہے کہ نزولِ مائدہ کی درخواست جب حواریوں نے کی تو وہاں صاف لکھا ہے قَالُوْا نُرِيْدُ اَنْ نَّاْكُلَ مِنْهَا وَ تَطْمَىِٕنَّ قُلُوْبُنَا وَ نَعْلَمَ اَنْ قَدْ صَدَقْتَنَا وَ نَكُوْنَ عَلَيْهَا مِنَ الشّٰهِدِيْنَ (المائدۃ : ۱۱۴) اس آیت سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ اس سے پہلے جس قدر معجزات مسیح کے بیان کئے جاتے ہیں اور جو حواریوں نے دیکھے تھے ان سب کے بعد اُن کا یہ درخواست کرنا اس اَمر کی دلیل ہے کہ اُن کے قلوب پہلے مطمئن نہ ہوئے تھے ورنہ یہ الفاظ کہنے کی اُن کو کیا ضرورت تھی وَ تَطْمَىِٕنَّ قُلُوْبُنَا وَنَعْلَمَ اَنْ قَدْ صَدَقْتَنَا۔مسیح کی صداقت میں بھی اس سے پہلے کچھ شک ہی ساتھا اور وہ اس جھاڑ پھوک کو معجزہ کی حد تک نہیں سمجھتے تھے۔اُن کے مقابلہ میں صحابہ کرامؓ ایسے مطمئن اور قوی الایمان تھے کہ قرآن شریف نے ان کی نسبت رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوْا عَنْهُ (البیّنۃ :۹) فرمایا۔اور یہ بھی بیان کیا کہ اُن پر سکینت نازل فرمائی۔یہ آیت مسیح علیہ السلام کے معجزات کی حقیقت کھولتی ہے۔اور رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت قائم کرتی ہے۔صحابہ کا کہیں ذکر نہیں کہ اُنہوں نے کہا کہ ہم اطمینانِ قلب چاہتے ہیں بلکہ صحابہ کا یہ حال کہ اُن پر سکینت نازل ہوئی اور یہود کا یہ حال يَعْرِفُوْنَهٗ كَمَا يَعْرِفُوْنَ اَبْنَآءَهُمْ(البقرۃ :۱۴۷) ان کی حالت بتائی یعنی رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت یہاں تک کھل گئی تھی کہ وہ اپنے بیٹوں کی طرح شناخت کرتے تھے اور نصاریٰ کا یہ حال کہ ان کی آنکھوں سے آپ کو دیکھیں تو آنسو جاری ہو جاتے تھے۔یہ مراتب مسیح کو کہاں نصیب! انبیاؑء تلامیذالرَّحمٰن ہوتے ہیں،اُن کی ترقی بھی تدریجی ہوتی ہے اس پر عرض کیا گیا کہ حضور! حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بھی احیاءِ موتٰی کی کیفیت کے متعلق اطمینان چاہا تھا۔کیا اُن کو بھی پہلے اطمینان نہ تھا؟ فرمایا۔اصل بات یہ ہے کہ انبیاء علیہم السلام اﷲ تعالیٰ کے مکتب میں تعلیم پانے والے ہوتے ہیں اور تلامیذالرَّحمٰن کہلاتے ہیں۔اُن کی ترقی بھی تدریجی ہوتی ہے۔اسی لیے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے قرآن شریف میں آیا ہے كَذٰلِكَ لِنُثَبِّتَ بِهٖ فُؤَادَكَ وَ رَتَّلْنٰهُ تَرْتِيْلًا (الفرقان : ۳۳)