ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 120 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 120

کہف والا قصہ ہماری راہ میں نہیں۔اگر خدا تعالیٰ نے اُن کو سلایا ہو اور پھر جگایا ہو تو ہمارا کوئی حرج نہیں۔مسیح کی وفات سے اس کو کیا تعلق؟ مسیح کے لیے کہاں رُقُوْد آیا ہے۔فضیلت کامسئلہ امام حسین ؑ پر میری فضیلت سن کر یونہی غصہ میں آتے ہیں۔قرآن نے کہاں امام حسین کا نام لیا ہے۔زید کا ہی نام لیا ہے۔اگر ایسی ہی بات تھی تو چاہیے تھا کہ حسین کا نام بھی لے دیا جاتا اور پھر مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَاۤ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ(الاحزاب:۴۱) کہہ کر اور بھی اُبُوّت کا خاتمہ کر دیا۔اگر اِلَّاحُسَیْنٍ کہہ دیا ہوتا تو شیعہ کا ہاتھ پڑسکتا تھا۔اصل یہ ہے کہ انبیاء علیہم السلام ان باتوں سے لا پروا ہوتے ہیں۔اُن کی تمنّا بھی یہ نہ تھی، ورنہ اﷲ تعالیٰ نبیوں کی تمنّا بھی پوری کر دیتا ہے۔مخالفین سے معانقہ قبل نماز ظہر حضرت اقدس ؑسے دریافت کیا گیا کہ عیسائیوں کے ساتھ کھانا اور معانقہ کرنا جائز ہے یا نہیں؟ فرمایا۔میرے نزدیک ہرگز جائز نہیں یہ غیرتِ ایمانی کے خلاف ہے کہ وہ لوگ ہمارے نبی اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دیں اور ہم اُن سے معانقہ کریں۔قرآن شریف ایسی مجلسوں میں بیٹھنے سے بھی منع فرماتا ہے جہاں اﷲ اور اس کے رسول کی باتوں پر ہنسی اُڑائی جاتی ہے اور پھر یہ لوگ خنزیر خور ہیں۔اُن کے ساتھ کھانا کھانا کیسے جائز ہو سکتا ہے۔اگر کوئی شخص کسی کی ماں بہن کو گالیاں دے تو کیا وہ روا رکھے گا کہ اس کے ساتھ مل کر بیٹھے اور معانقہ کرے۔پھر جب یہ بات نہیں، اﷲ اور رسول کے دشمنوں اور گالیاں دینے والوں سے کیوں اس کو جائز رکھا ہے۔(بوقتِ شام) آنحضرتؐاور آپ کے صحابہؓکی فضیلت مسیحؑ اور اُن کے حواریوں پر بعد ادائے نماز مغرب حضرت اقدس علیہ الصلوٰۃ والسلام معمول کے موافق خدام کے حلقہ میں بیٹھ گئے اور فرمایا کہ قرآن شریف کے ایک مقام پر غور کرتے کرتے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی بڑی عظمت اور کامیابی معلوم ہوئی۔جس کے مقابل میں حضرت مسیح بہت ہی کمزور ثابت ہوتے ہیں۔سورئہ مائدہ میں