ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 91 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 91

۱۲؍ فروری ۱۹۰۱ ء ایک امتحان والے آدمی کے متعلق دعا کے واسطے عرض کی گئی فرمایا۔دعا تو کی جاتی ہے مگر بعض دفعہ اللہ تعالیٰ نے انسان کے واسطے کوئی اور نعمت رکھی ہوئی ہوتی ہے اور دعا ظاہر الفاظ میں پوری ہوتی ہوئی نظر نہیں آتی اس میں ایک ابتلا ہوتا ہے۔خصوصاً ان لوگوں کے واسطے جو بظاہر نیک ہوتے ہیںکیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ ہم تو نیک تھے ہم پر ابتلا یہ کیوں آیا۔خدا تعالیٰ پر بھروسہ شام کے بعد فرمایا۔ہم کو تو خدا پر اتنا بھروسہ ہے کہ ہم تو اپنے لیے دعا بھی نہیں کرتے کیونکہ وہ ہمارے حال کو خوب جانتا ہے۔حضر ت ابراہیمؑکو جب کفار نے آگ میں ڈالا تو فرشتوں نے آکر حضرت ابراہیم ؑسے پوچھا کہ آپ کو کوئی حاجت ہے۔حضرت ابراہیم ؑ نے فرمایا بَلٰی وَلٰکِنْ اِلَیْکُمْ لَا۔ہاں حاجت تو ہے مگر تمہارے آگے پیش کرنے کی کوئی حاجت نہیں۔فرشتوں نے کہا کہ اچھا خدا تعالیٰ کے آگے ہی دعا کرو۔تو حضرت ابراہیم ؑ نے فرمایا عِلْمُہٗ مِنْ حَالِیْ حَسْبِیْ مِنْ سَوَالِیْ۔وہ میرے حال سے ایسا واقف ہے کہ مجھے سوال کرنے کی ضرورت نہیں۔۱ ۱۴؍ فروری ۱۹۰۱ء ابتلا اس بات پر ذکر کرتے ہوئے کہ مومنین پر تکالیف اور ابتلاآیا کرتے ہیں۔فرمایا۔ایک شخص حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اپنی لڑکی کا آنحضرت کے ساتھ نکاح کے واسطے عرض کیا او رمنجملہ اس لڑکی کی تعریف کے ایک یہ بات بھی عرض کی کہ وہ اتنی عمر کی ہوئی ہے مگر آج تک اس پر کوئی بیماری وارد نہیں ہوئی۔آنحضرت علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا کہ جو لوگ خدا کے پیارے ہوتے ہیں ان پر خدا کی طرف سے ضرور تکالیف اور ابتلا آیا کرتے ہیں۔۱ الحکم جلد ۵ نمبر ۶ مورخہ ۱۷؍ فروری ۱۹۰۱ ء صفحہ ۱۳