ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 90 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 90

کے دو ہی نام تھے۔جب مسیح نے پیشگوئی کی تو احمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نام سے کی کیونکہ وہ خود جمالی شان رکھتے تھے یہ وہی نام ہے جس کا ترجمہ فارقلیط ہے۔جہلا کے دماغ میں عقل نہیں ہوتی اس لئے ان کو موٹی موٹی نظیروں کے ساتھ جب تک نہ سمجھایا جائے وہ نہیں سمجھتے ہیں۔ان کو تو بچوںکی طرح سبق دینا چاہیے۔عورتیں اور بچے بھی تو طرح طرح کے نظیروں کےساتھ پڑھ سکتے ہیں۔قرآن شریف اس وقت گم شدہ ہے۔جنہوں نے اس نعمت کو پالیا ہے ان کا فرض ہے کہ وہ لوگوں کو سمجھا ئیں۔جن کے پاس حق ہے وہ کیوں کامیاب نہ ہو۔حق والا اگر دوسروں کو جو اس سے بے خبر ہیں سمجھاتا نہیں ہے تو وہ بزدلی اور گناہ کرتا ہے۔اس کے سمجھانے سے اگر اور نہیں تو وہ منہ ہی بند کر لے گا۔ان لوگوں کی تو یہ حالت ہے کہ اگر پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی اور نام قرآن شریف میں ہوتا اور اس کو اب پیش کیا جاتا تو بھی اعتراض کرتے۔کون سی بات ہے جس کو ہم نے اپنی طرف سے پیش کیا؟ ہمیشہ ان کے سامنے قرآن شریف ہی پیش کیاہے اور انہوں نے اعتراض ہی کیا ہے۔انہیں یہ بات کہ کلمہ لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَسُوْلُ اللّٰہِ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا نام رکھا ہے اس میں سرّ یہ ہے کہ باطل معبودوں کی نفی اور توحید الٰہی کا اظہار جلالی طور پر ظاہر ہونے والا تھا۔عرب تو باز آنے والے نہ تھے اس لئے محمدی جلال ظاہر ہوا۔احمدی رنگ میں وہ ماننے والے نہ تھے اس جمالی رنگ میں ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر آئے وہ کامیابی نہ ہوئی جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہوئی۔اس میں اشارہ تھا کہ جلال سے اشاعت ہوگی۔اللہ کے ساتھ محمد ہی ہونا چاہیے تھا کیونکہ اللہ اسم اعظم ہے اور جلالی نام ہے۔اس کے ہمارے پاس دلائل ہیں۔سارے قرآن شریف میں اللہ ہی کو موصوف ٹھیرایا گیا ہے۔لَهُ الْاَسْمَآءُ الْحُسْنٰى(الـحشـر:۲۵) اس میں وہ نام سب داخل ہیں جو قرآن شریف میں ذکر کئے گئے ان سب سے موصوف اللہ ہی ہے جو اسم اعظم ہے پس اسم اعظم کا ظہور محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہی کے ذریعہ ہونا چاہیے تھا جو شخص اب بھی ضد کرے وہ ایمان سے خارج ہو جاتا ہے۔۱ ۱ الحکم جلد ۵ نمبر ۵ مورخہ ۱۰؍ فروری ۱۹۰۱ ء صفحہ ۴