ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 85 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 85

کہ اس شخص کے وجود میں تمام مخالفین کا وجود شامل کر کے ایک ہی کا حکم رکھا ہے تاکہ اعلیٰ سے اعلیٰ اور اعظم سے اعظم معجزہ ثابت ہو کہ تمام مخالفین ایک وجود یا کئی جان ایک قالب بن کر اس تفسیر کے مقابلہ میں لکھنا چاہیں تو ہرگز نہ لکھ سکیں گے۔فرمایا۔انسان کا کام انسان کر سکتا ہے۔ہمارے مخالف انسان ہیں اور عالم اور مولوی کہلاتے ہیں۔پھر کیا وجہ ہے کہ جو کام ہم نے کیا وہ نہیں کر سکتے۔یہی ایک معجزہ ہے۔نبی اگر ایک سونٹا پھینک دے اور کہے کہ میرے سوا کوئی اس کو اٹھا نہ سکے گا تو یہ بھی ایک معجزہ ہے، چہ جائیکہ تفسیر نویسی تو ایک علمی معجزہ ہے۔فرمایا۔یہ تفسیر رمضان شریف میں شروع ہوئی جیسا کہ قرآن شریف رمضان میں شروع ہوا تھا اور امید ہے کہ دو عیدوں کے درمیان ختم ہو گی۔جیسا کہ شیخ سعدی نے کسی کے متعلق کہا ہے۔؎ بروز ہمایوں و سال سعید بتاریخ فرخ میان دو عید فرمایا۔قرآن شریف کے معجزہ فصاحت و بلاغت کے جواب میں ایک دفعہ پادری فنڈر نے حریری اور ابوالفضل اور بعض انگریزی کتابوں کو پیش کیا تھا۔مدت کی بات ہے۔ہم نے اس وقت بھی یہی سوچا تھا کہ یہ جھوٹ بولتا ہے کیونکہ اول تو ان مصنفین کو کبھی یہ دعویٰ نہیں ہوا کہ ان کا کلام بے مثل ہے بلکہ وہ خود اپنی کم مائیگی کا ہمیشہ اقرار کرتے رہے ہیں اور قرآن شریف کی تعریف کرتے ہیں۔دوسرا ان لوگوں کی کتابوں میں معنی الفاظ کے تابع ہوکرچلتا ہے۔صرف الفاظ جوڑے ہوئے ہوتے ہیں۔قافیہ کے واسطے ایک لفظ کے مقابل دُوسرا لفظ تلاش کیا جاتا ہے اور کلام میں حکمت اور معارف کا لحاظ نہیں ہوتا اور قرآن شریف میں التزام ہے حق اور حکمت کا۔اصل میں اس بات کا نباہنا کہ حق اور حکمت کے کلمات کے ساتھ قافیہ بھی درست ہو یہ بات تائید الٰہی سے حاصل ہوتی ہے ورنہ انسانوں کے کلام ایسے ہوتے ہیں جیساکہ حریری وغیرہ۔