ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 76 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 76

قیاس مَعَ الفارق ہے۔اللہ تعالیٰ کو اپنے اوپر قیاس نہ کرو۔میں اگر خدا تعالیٰ کو قادر او ر عظیم الشان نہ دیکھتا تو یہ دعا ؤں کی قبولیت کے نمونے جو دیکھتا ہوں نظر نہ آتے۔دیکھو! کپٹن ڈگلس کے سامنے جو مقدمہ تھا اس میں کس کا تصرّف تھا۔ڈاکٹر کلارک جیساآدمی جو مذہبی حیثیت سے ایک اثر ڈالنے والا آدمی تھا۔پھر اس کے ساتھ آریوں کی طرف سے پنڈت رام بھجدت وکیل شریک ہوا اور مولوی محمد حسین جیسا دشمن بطور گواہ پیش ہوا اور خود عبدا لحمید کا یہ بیان کہ مجھے قتل کے لئے ضرور بھیجا تھا اور پھر اس کا یہ بیان امرت سر میں ہوا۔ڈپٹی کمشنر کے سامنے بھی اس نے یہی کہا۔اب یہ کس کا کام تھا کہ اس نے کپتان ڈگلس کے دل میں ڈالا کہ عبد الحمید کے بیان پر شبہ کرے اور اصل حقیقت کے معلوم کرنے کے واسطے اسے دوبارہ پولیس کے سپرد کرے۔غرض جو کچھ اس مقدمہ میں ہوا ،اس سے صاف طور پر اللہ تعالیٰ کی قدرت اور اس کے تصرّف کا پتہ لگتا ہے۔میرا مطلب اس مقدمہ کے بیان سے صرف یہ ہے کہ یہ بڑی نادانی اور گناہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو اسی پیمانہ سے ناپیں جس سے ایک عاجز انسان زید بکر کو ناپا جائے۔پس یہ کہنا کہ آدم علیہ السلام کی پسلی نکال لی تھی اور حوّا اس پسلی سے بنی تو پھر پسلی کہاںسے آگئی۔سخت بے وقوفی اور اللہ تعالیٰ کے حضور سوء ادبی ہے۔یاد رکھو! یورپی فلسفہ ضلالت سے بھرا ہوا ہے۔یہ انسان کو ہلاکت کی طرف لے جاتا ہے۔ایسا ہی یہ کہنا کہ انسان پر کوئی ایسا وقت نہیں آیا کہ اسے مٹی سے پیدا کیا ہو درست نہیں ہے۔نوعی قِدَم کا میں ہرگز ہر گز قائل نہیں ہوں۔ہاں یہ میں مانتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ہمیشہ سے خالق ہے۔کئی بار دنیا معدوم ہوئی اور پھر اَز سرِ نَو کر دی۔یہ کوئی تعجب کی بات نہیں ہے۔جب کہ ایک مَر جاتا ہے تو یہ کیوں جائز نہیں کہ ایک وقت آوے کہ سب مَر جاویں۔قیامت کبریٰ کے تو ہندو اور یونانی بھی قائل ہیں۔جو لوگ اللہ تعالیٰ کو محدود القویٰ ہستی سمجھتے ہیں وہ مَا قَدَرُوا اللّٰهَ حَقَّ قَدْرِهٖ ( الـحج :۷۵) میں داخل ہیں جو ایک حد تک ہی خدا کو مانتے ہیں۔یہ نیچریت کا شعبہ ہے۔قرآن کریم تو صاف بتلاتا ہے اِنَّ رَبَّكَ فَعَّالٌ لِّمَا يُرِيْدُ(ھود:۱۰۸) اور اِنَّمَاۤ اَمْرُهٗۤ اِذَاۤ اَرَادَ شَيْـًٔا اَنْ يَّقُوْلَ لَهٗ كُنْ فَيَكُوْنُ ( یٰسٓ :۸۳) اللہ تعالیٰ کی ان ہی قدرتوں اور فوق الفوق طاقتوں نے