ملفوظات (جلد 2) — Page 75
ہوں گی۔کیا فرق کر سکتے ہو؟اس نے کہا ہاں مل جل گئی ہیں۔اس طرح پر ان لوگوں نے مسیح کو نصف خدائی کا دعویدار بنا دیا ہے۔ایسا ہی انہوںنے دجّال کی نسبت مان رکھا ہے کہ وہ مُردوں کو زندہ کرے گا۔اور یہ کرے گا اور وہ کرے گا۔افسوس قرآن تو لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ کی تلوار سے تمام ان باطل معبودوں کو قتل کرتا ہے جن میں خدائی صفات مانی جائیں۔پھر یہ دجّال کہاں سے نکل آیا ہے۔سورۃ فاتحہ میں یہودی اور عیسائی بننے سے بچنے کی دعا تو سکھلائی، کیا دجّال کا ذکر خدا کو یاد نہ رہا جو اتنا بڑا فتنہ تھا؟اصل یہ ہے کہ ان لوگوں کی عقل ماری گئی اور یہ اس کے مصداق ہیں۔یکے بر سر شاخ وبن مے برید۔یہ لوگ جب کہ اس طرح سے اسلام کو ذلیل کرنے پر آمادہ ہوئے ہیں۔تو اللہ تعالیٰ نے اپنے وعدہ کے موافق کہ اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَ اِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ ( الـحجر : ۱۰ ) قرآن شریف کی عظمت کو قائم کرنے کے لئے چودھویں صدی کے سر پر مجھے بھیجا ہے۔کیا نہیں دیکھتے کہ کس طرح پر اس کے نشانات ظاہر ہو رہے ہیں۔خسوف وکسوف رمضان میں ہو گیا۔کیا ہو سکتا ہے کہ مہدی موجود نہ ہو اور یہ مہدی کا نشان پورا ہو جاوے۔کیا خد اکو دھوکہ لگا ہے؟ پھر اونٹ بیکار ہونے پر بھی مسیح نہ آیا؟ آسمان اور زمین کے نشان پورے ہو گئے۔زمانہ کی حالت خود تقاضا کرتی ہے کہ آنے والا آوے مگر یہ تکذیب ہی کرتے ہیں۔آنے والا آگیا۔ان کی تکذیب اور شور و بکا سے کچھ نہ بگڑے گا۔ان لوگوں کی ہمیشہ سے اسی طرح عادت رہی ہے۔خدا کی باتیں سچی ہیں اور وہ پوری ہو کر رہتی ہیں۔پس تم ان کی بد صحبتوں سے بچتے رہو اور دعا ؤں میں لگے رہو اور اسلام کی حقیقت اپنے اندر پیدا کرو۔۱ دسمبر ۱۹۰۰ء حوّا کی پیدائش فرمایاکہ حوّا پسلی ہی سے بنائی گئی ہیں۔ہم اللہ تعالیٰ کی قدرت پر ایمان لاتے ہیں۔ہاں اگر کوئی کہے کہ پھر ہماری پسلی نہ ہوتی۔تو میں کہتا ہوں کہ یہ قیاس