ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 446 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 446

اور یہ بات انگریز محققوں نے بھی مان لی ہے کہ کشمیری دراصل بنی اسرائیل ہیں چنانچہ برنئیر نے اپنے سفر نامہ میں یہی لکھا ہے۔اب جبکہ یہ ثابت ہوتا ہے اور واقعات صحیحہ کی بنا پر ثابت ہوتا ہے کہ وہ صلیب پر نہیں مَرے بلکہ زندہ اتر آئے تو پھر کفارہ کا کیا باقی رہا۔پھر سب سے عجیب تر یہ بات ہے کہ عیسائی جس عورت کی شہادت پر مسیح کو آسمان پر چڑھاتے ہیں وہ خود ایک اچھے اور شریف چال چلن کی عورت نہ تھی۔۱ تلاش حق کے آداب یاد رکھو کہ ایک فعل انسان کی طرف سے اولاً سرزد ہوتا ہے پھراس میں جو اثر یا خاصیت مخفی ہو خدا تعالیٰ کا ایک فعل اس پر مترتّب ہو کر اسے ظاہر کر دیتا ہے مثلاً جب ہم اپنے گھر کی کوٹھڑی کی کھڑکی کوبند کر لیتے ہیں تو یہ ہمارا فعل ہے اور اس پر خدا تعالیٰ کا فعل یہ سرزد ہوتا ہے کہ اس کوٹھڑی میں روشنی اور ہوا کی آمد رفت بند ہو کر تاریکی ہو جائے گی۔پس یہ ایک عاد ت اللہ اور قدیم سے اسی طرح پر چلی آتی ہے اور اس میں کوئی تغیر، تبدل نہیں ہوسکتا ہے کہ انسانی فعل پر خدا کی طرف سے ایک فعل سرزد ہوتا ہے اسی طرح پر جیسے یہ نظام ظاہری ہے اندرونی انتظام میں بھی یہی قانون ہے جو شخص صاف دل ہو کر تلاش حق کرتا ہے اور اگر کچھ نہیں تو کم از کم سلب عقائد ہی کی حالت میں آتا ہے تو وہ سچائی کو ضرور پا لیتا ہے لیکن اگر وہ اپنے دل میں پہلے سے ایک بات کا فیصلہ کر لیتا ہے اور ضدّ اور تعصّب کے حلقوں میں گرفتار دل لے کر آتا ہے توا س کا نتیجہ یہی ہوتا ہے کہ اس کا معاندانہ جوش بڑھ کر فطرت کے انوار کو دبا لیتا ہے اور دل سیاہ ہو جاتا ہے پھر وہ حق و باطل میں امتیاز کرنے کی توفیق نہیں پاتا ہے۔پس خدا تعالیٰ سے پاکیزگی اور ہدایت کے پانے کے لئے خود بھی اپنے اندر ایک پاکیزگی کو پیدا کرنا چاہیے اور وہ یہی ہے کہ انسان بخل اور تعصّب کو چھوڑ دے اور اپنے نفس کو ہرگز دھوکا نہ دے۔یہ بالکل سچ ہے کہ جو شخص تلاش حق کا دعویٰ کر کے نکلتا ہے اور پھر اپنی جگہ پہلے ہی کسی مذہب کے اصول کو فیصلہ کر کے قطعی بھی قرار دے لیتا ہے وہ دنیا کا طالب ہوتا ہے جو دنیاکی فتح و شکست پر مَرتا ہے۔میں اس بات کا قائل نہیں ہو سکتا کہ وہ خدا کو مانتا ہے۔نہیں