ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 445 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 445

اپنی مثال یونسؑ سے دی ہے۔کیا یونس مچھلی کے پیٹ میں زندہ داخل ہوئے تھے یا مَر کر او رپھر یہ کہ پیلاطوس کی بیوی نے ایک ہولناک خواب دیکھا تھا جس کی اطلاع پیلاطوس کو بھی اس نے کر دی او ر وہ اس فکر میںہو گیا کہ اس کو بچایا جاوے اور اسی لیے پیلاطوس نے مختلف پیرایوں میں مسیح کے چھوڑ دینے کی کوشش کی اور آخر اپنے ہاتھ دھوکر ثابت کیا کہ میں اس سے بَری ہوں اور پھر جب یہودی کسی طرح ماننے والے نظر نہ آئے تو یہ کوشش کی گئی کہ جمعہ کے دن بعد عصر آپ کو صلیب دی گئی اور چونکہ صلیب پر بھوک پیاس اور دھوپ وغیرہ کی شدت سے کئی دن رہ کر مصلوب انسان مَر جایا کرتا تھا وہ موقع مسیح کو پیش نہ آیا کیونکہ یہ کسی طرح نہیں ہو سکتا تھا کہ جمعہ کے دن غروب ہونے سے پہلے اسے صلیب پر سے نہ اتار لیا جاتا کیونکہ یہودیوں کی شریعت کے رو سے یہ سخت گناہ تھا کہ کوئی شخص سبت یا سبت سے پہلے رات صلیب پر رہے۔مسیح چونکہ جمعہ کی آخری گھڑی صلیب پر چڑھایا گیا تھا اس لئے بعض واقعات آندھی وغیرہ کے پیش آجانے سے فی الفور اتار لیا گیاپھر دو چور جو مسیح کے ساتھ صلیب پر لٹکائے گئے تھے ان کی ہڈیاں تو توڑ دی گئیں تھیں مگر مسیح کی ہڈیاں نہیں توڑی گئی تھیں۔اور پھر مسیح کی لاش ایک ایسے آدمی کے سپرد کر دی گئی جو مسیح کا شا گر د تھا اور اصل تو یہ ہے کہ خود پیلاطوس اور اس کی بیوی بھی اس کی مرید تھی چنانچہ پیلاطوس کو عیسائی شہیدوںمیں لکھاہے اور اس کی بیوی کوولیہ قرار دیا ہے اور ان سب سے بڑھ کرمرہم عیسیٰ کا نسخہ ہے جس کو مسلما ن، یہود ی ،رومی اور عیسائی اور مجوسی طبیبوں نے بالاتفاق لکھا ہے کہ یہ مسیح کے زخموں کے لیے تیار ہوا تھا اور اس کا نام مر ہم عیسیٰ اور مرہم حواریین اور مر ہم رسل اور مرہم شلیخہ وغیر ہ بھی رکھا۔کم از کم ہزا ر کتاب میں یہ نسخہ مو جو د ہے اور یہ کوئی عیسائی ثا بت نہیں کر سکتا کہ صلیبی زخموں کے سوا اور بھی کبھی کوئی زخم مسیح کولگے تھے اور اس وقت حواری بھی موجو د تھے۔اب بتا ئو کہ کیا یہ تمام اسبا ب اگر ایک جا جمع کیے جاویں تو صا ف شہادت نہیں دیتے کہ مسیح صلیب پر سے زند ہ بچ کر اتر آیا تھا۔اس پر اس وقت ہم کو کوئی لمبی بحث نہیں کرنی ہے یہودیوں کے جو فرقے متفرق ہو کر افغانستان یا کشمیر میں آگئے تھے وہ ان کی تلاش میں ادھر چلے آئے اور پھر آخر کشمیر ہی میں انہوںنے وفات پائی