ملفوظات (جلد 2) — Page 433
ہاتھ میں ہے اور اٰخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوْا بِهِمْ (الـجمعۃ: ۴) صاف ظاہر کرتا ہے کہ کوئی زمانہ ایسا بھی ہے جو صحابہؓ کے مشرب کے خلاف ہے اور واقعات بتا رہے ہیں کہ اس ہزار سال کے درمیان اسلام بہت سی مشکلات اور مصائب کا نشانہ رہا ہے۔معدودے چند کے سِوا سب نے اسلام کو چھوڑ دیا اور بہت سے فرقے معتزلہ اور اباحتی وغیرہ پیدا ہو گئے۔ہم کو اس بات کا اعتراف ہے کہ کوئی زمانہ ایسا نہیں گزرا کہ اسلام کی برکات کا نمونہ موجود نہ ہو۔مگر وہ ابدال اور اولیاء اﷲ جو اس درمیانی زمانہ میں گزرے ان کی تعداد اس قدر قلیل تھی کہ ان کروڑوں انسانوں کے مقابلہ میں جو صراطِ مستقیم سے بھٹک کر اسلام سے دور جا پڑے تھے کچھ بھی چیز نہ تھے۔اس لیے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے نبوت کی آنکھ سے اس زمانہ کو دیکھا اور اس کا نام فیج اعوج رکھ دیا۔مگر اب اﷲ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا ہے کہ ایک اور گروہ کثیر کو پیدا کرے جو صحابہؓ کا گروہ کہلائے مگر چونکہ خدا تعالیٰ کا قانونِ قدرت یہی ہے کہ اس کے قائم کردہ سلسلہ میںتدریجی ترقی ہوا کرتی ہے اس لیے ہماری جماعت کی ترقی بھی تدریجی اور كَزَرْعٍ (کھیتی کی طرح) ہو گی اور وہ مقاصد اور مطالب اس بیج کی طرح ہیں جو زمین میں بویا جاتا ہے۔وہ مراتب اور مقاصد عالیہ جن پر اﷲ تعالیٰ اس کو پہنچانا چاہتا ہے ابھی بہت دور ہیں۔وہ حاصل نہیں ہو سکتے ہیں جب تک وہ خصوصیت پیدا نہ ہو جو اس سلسلہ کے قیام سے خدا کا منشا ہے۔توحید کے اقرار میں بھی خاص رنگ ہو۔تبتّل اِلَی اﷲ ایک خاص رنگ کا ہو۔ذکرِ الٰہی میں خاص رنگ ہو۔حقوقِ اخوان میں خاص رنگ ہو۔انبیاء کی بعثت کی غرض تما م انبیاء علیہم السلا م کی بعثت کی غر ض مشتر ک یہی ہو تی ہے کہ خدا تعالیٰ کی سچی اور حقیقی محبت قائم کی جاوے اور بنی نو ع انسا ن اور اخوان کے حقوق اور محبت میں ایک خا ص رنگ پیدا کیا جاوے جب تک یہ باتیں نہ ہو ں تمام امور صرف رسمی ہوں گے۔خدا تعا لیٰ کی محبت کی بابت تو خدا ہی بہتر جانتا ہے لیکن بعض اشیاء بعض سے پہچانی جاتی ہیں مثلاً ایک درخت کے نیچے پھل ہوں تو کہہ سکتے ہیں کہ اس کے اوپر بھی ہوں گے لیکن اگر نیچے کچھ بھی نہیں تو